.

فلسطینی صدر نے وزیراعظم سلام فیاض کا استعفی منظور کر لیا

سلام فیاض اور محمود عباس کے درمیان اختلافات کا ڈراپ سین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنی حکومت کے وزیر اعظم کا استعفی ہفتے کے روز منظور کر لیا۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سلام فیاض کے استعفی کی وجہ صدر ابو مازن کا اول الذکر کی معاشی پالیسیوں پر اختلافات بیان کئے جاتے ہیں۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ سلام فیاض نے رام اللہ ہیدکوارٹرز میں ہفتے کے روز محمود عباس سے نصف گھنٹے کے لئے مختصر ملاقات کی۔ اس سے قبل ایک اعلی فلسطینی عہدیدار نے سلام فیاض کے حوالے سے 'اے ایف پی' کو بتایا تھا کہ وہ مزید فلسطینی حکومت کے سربراہ نہیں رہیں گے، چاہے ان اس منصب پر قائم رہنے کی درخواست ہی کیوں نہ کی جائے۔

حالیہ چند دنوں سے ایسی افواہیں گردش میں تھیں کہ سلام فیاص، فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ اپنی معاشی پالیسیوں پر اختلافات کے باعث یا تو خود وزارت عظمی کا عہدہ چھوڑ دیں گے یا پھر انہیں اس منصب سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امسال مارچ کے مہینے میں وزیر مالیات نبیل قیسیس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق سلام فیاض نے فلسطینی صدر محمود عباس کی ملک میں غیر موجودگی کے دوران وزیر مالیات کا استعفی قبول کرنے کی حامی بھر لی تھی، تاہم ابو مازن نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

گزشتہ برس مئی میں فلسطینی وزیر مالیات کی تقرری تک سلام فیاض ہی وزارت عظمی اور وزیر مالیات کے عہدوں پر کام پر رہے تھے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سلام فیاض کی معاشی پالیسیوں پر 'فتح' کی انقلابی کونسل کے گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے اجلاس میں پہلی بار علانیہ تنقید کی گئی۔

محمود عباس کی زیر قیادت فلسطینی انتظامیہ شدید مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ معاشی بحران کی ایک وجہ بین الاقوامی اداروں کے موعودہ فنڈ کا عدم اجرا ہے، تاہم امریکی کانگریس نے پانچ سو ملین امداد خاموشی کے ساتھ جاری کر دی تھی۔

گزشتہ جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ان کے اختلافات کی بابت ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ امریکا سے تعلیم یافتہ سلام فیاض کو بین الاقوامی برداری اپنے زیر نگین علاقے غرب اردن میں ٹھوس حکومتی ادارے قائم کرنے کا کریڈٹ ضرور دیتی ہے۔

فلسطینی قیادت کے بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ سلام فیاض کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اسرائیل کے لبرل عبرانی اخبار 'ہارٹز' میں انہیں 'ہر کسی کا پسندیدہ فلسطینی' قرار دیا گیا ہے۔