سعودیہ میں اماراتی گلوکارہ پر'حملہ'، تحقیقات کا آغاز

واقعہ الجنادریہ قومی ورثہ اور ثقافتی میلے کے دوران پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی دارلحکومت ریاض کے گورنر شہزادہ خالد بن بندر بن عبدالعزیز نے جمعہ کے روز ہونے والے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جس میں ملک کی مذہبی پولیس 'امر بالمعروف و نہی عن المنکر' کے ایک انتظامی افسر نے متحدہ عرب امارات کی ایک گلوکارہ اریام کو الجنادریہ قومی ورثہ اور ثقافتی میلے میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

Advertisement

'الریاض' روزنامے نے اتوار کے روز اپنی اشاعت میں بتایا کہ تحقیقات کا مقصد واقعے کی تہ تک پہنچنا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

درایں اثنا سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اے پی اے' نے اتوار کے روز اپنے مراسلے میں بتایا کہ سیکیورٹی فورسسز نے مذہبی پولیس کے افسر کو اسٹیج پر جانے سے روک دیا تھا کیونکہ وہ اریام کو میلے میں شرکت سے روکنا چاہتا تھا۔ الجنادریہ میلہ دو ہفتے جاری رہتا ہے جس میں سعودی عرب کا روایتی کلچر پروموٹ کیا جاتا ہے۔

ایس پی اے نے سیکیورٹی عہدیدار میجر جنرل عبدالرحمن الزامل کا یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے میلے میں پیدا ہونے والی ناخوشگوار صورتحال پر قابو پانے کا دعوی کیا تھا جس کی وجہ سے تصادم ہوتے ہوتے بچا۔ سعودی اخبار کے مطابق میلے کے منتظمیں اریام کو وہاں دیکھ کر ششدر رہ گئے۔

شہزادہ بندر نے یو اے ای کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کی سربراہی میں اعلی اختیاراتی کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق کمیشن نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے اور ہفتے کی شام پہلی مرتبہ اجلاس منعقد کیا۔

یو اے ای سے تعلق رکھنے والی فنکارہ اریام نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1995 کو ایک ٹیلنٹ شو 'یا ھلا بالضیف' سے کیا۔ انہوں نے علاقے کے متعدد شاعروں اور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ انہوں نے ریجن میں متعدد پروگراموں میں شرکت کی جس میں یو اے ای کے قومی دن کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات بطور خاص شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں