حزب اللہ کے 1200 جنگجوؤں کی باغیوں سے لڑائی کے لیے شام آمد

بشارالاسد کی حمایت میں لبنانی تنظیم کی جانب سے کمک کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ایک ہزار سے زیادہ جنگجو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں سے لڑنے کے لیے گذشتہ چند روز کے دوران آبی راستوں کے ذریعے شام پہنچے ہیں۔

سعودی روزنامے الوطن میں اتوار کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے قریباً بارہ سو جنگجو شام کی بندرگاہ طرطوس پہنچے ہیں۔اس کے علاوہ عراق سے بھی اسد حکومت کی وفادار سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے جنگجو شامی علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔

اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام کے ریزرو فوجی آرمی کمان کی جانب سے باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے لیے احکامات کو مسلسل نظرانداز کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ شامی فوج کو اس وقت باغیوں کے مقابلے میں ہزیمت کا سامنا ہے۔

اس دوران یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز چالیس سال تک عمر کے افراد کو گرفتار کررہی ہیں اور انھیں فوجی بھرتی کیمپوں لے جایا جارہا ہے اور عسکری تربیت کے عمل میں شرکت پر مجبور کیا جارہا ہے تاکہ انھیں ضروری تربیت کے بعد باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے لیے میدان میں اتارا جاسکے۔

ہفتے کے روز شام کے وسطی صوبے حمص میں باغی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں حزب اللہ کے چالیس جنگجو اور فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔شامی صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ دوسال سے جاری مسلح عوامی تحریک کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ حزب اللہ کے جنگجو شامی حدود میں اتنی زیادہ تعداد میں لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ،کینیڈا اور اسرائیل نے حزب اللہ کو بلیک لسٹ قرار دے رکھا ہے اور ان ممالک نے اپنے ہاں اس کے بنک اثاثے منجمد کردیے تھے۔یورپ میں صرف نیدرلینڈز نے حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے جبکہ برطانیہ نے اس کے عسکری ونگ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔

گذشتہ ہفتے خلیجی ریاست بحرین نے لبنانی شیعہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔اس نے حزب اللہ پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ بحرین سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کو حکومت کے خلاف محاذ آراء کرنے کے لیے تربیت دے رہی ہے۔بحرین پہلا عرب ملک ہے جس نے لبنانی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں