شامی فوج نے انقلاب کی علامت مسجد العمری کا مینار شہید کر دیا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مینار کی شہادت کا منظر پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج کے ایک حملے میں ملک میں جاری انقلابی تحریک کے گڑھ درعا کی مسجد العمری کا ایک مینار شہید ہو گیا۔ اس امر کا انکشاف سماجی رابطے کی ویڈیو ویب سائٹ 'یو ٹیوب' پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز بنائی جانے والی ویڈیو میں مسجد مینار کی شہادت کے جلو میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ نیز اس منظر کو براہ راست دیکھنے والوں کی خوف اور غم کے مارے نکلنے والی چیخیں بھی صاف سنائی دے رہی ہیں۔

ایک اور ریکارڈ شدہ ویڈیو میں شہید مینار دکھائی دے رہا ہے اور اردگرد شہید مینار کا ملبہ موجود ہے۔ اس مناظر کے جلو میں آنے والی آوازوں سے صاف پتا چلتا ہے کہ منظر دیکھنے والے افراد اس کارروائی کی ذمہ داری بشار الاسد نواز شامی فوج پر ڈال رہے ہیں۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے جنگجووں نے مارچ کے اواخر تک درعا میں شامی انتفاضہ کے مرکز مسجد العمری کی بازیانی کی کوشش کرتے رہے۔ یاد رہے کہ اسی مسجد میں 18 مارچ 2011ء کو احتجاجی مظاہرہ کرنے والے افراد شریک تھے جو صدر بشار الاسد کے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مسجد العمری کا معرکہ شامی اپوزیشن کے لئے ایک خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ امسال 23 سے 25 مارچ کی مدت کے دوران شامی حکومت نے مسجد العمری پر ایک خونریز حملہ کیا جس میں 31 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ یاد رہے کہ یہ مسجد حکومت مخالف اجلاسوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ جزوقتی ہسپتال کا فریضہ بھی سرانجام دے چکی ہے۔ اسے کچھ مدت کے لئے گولا بارود ذخیرہ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں