قاہرہ میں کیتھڈرل کے باہر جھڑپوں میں ملوث 10 مشتبہ افراد گرفتار

محکمہ استغاثہ کا تفتیش کے لیے چار روز تک زیرحراست رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کے محکمہ پراسیکیوشن نے دارالحکومت قاہرہ میں سینٹ مارک قبطی آرتھوڈکس کیتھڈرل پر گذشتہ ہفتے حملے، قتل اور اقدام قتل کے الزام میں چار عیسائیوں سمیت دس افراد کو چار روز کے لیے زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔

مصر کے سرکاری ٹی وی نیل کی اطلاع کے مطابق ان دس مشتبہ افراد کو آتشیں اسلحہ اور ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں شامل چار عیسائیوں کی گذشتہ جمعہ کو گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

قاہرہ میں قبطی آرتھوڈکس کیتھڈرل کے باہر گذشتہ اتوار کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور چوراسی زخمی ہوگئے تھے۔اس سے دوروز پہلے جمعہ کو قاہرہ کے نواحی علاقے الخصوص میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں چار قبطی عیسائی مارے گئے تھے اور وہاں فریقین کے درمیان جھڑپیں بعض مسیحی لڑکوں کی جانب سے ایک اسلامی دینی ادارے کی دیوار پر تحریریں لکھنے کے ردعمل میں شروع ہوئی تھیں۔عیسائیوں اور مسلمانوں میں خونریز تصادم میں چار قبطی عیسائی اور ایک مسلمان مارا گیا تھا۔

مرنے والے چاروں عیسائیوں کی آخری رسومات قاہرہ میں قبطی سینٹ مارک کیتھڈرل میں ادا کی گئیں۔ان میں شرکت کے بعد سیکڑوں عیسائِی شہر کی سڑکوں پر نکل آئے۔انھوں نے کیتھڈرل چرچ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔اس دوران ان کی مسلمانوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں اور انھوں نے ایک دوسرے کی جانب پتھراؤ کیا اور پٹرول سے بھری بوتلیں پھینکیں۔مصر کے صدر محمد مرسی نے فرقہ وارانہ بنیاد پر ان جھڑپوں کی مذمت کی تھی اور ان کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ''قبطی کیتھڈرل پر حملہ ان کی ذات پر حملہ ہے''

مقبول خبریں اہم خبریں