شامی بحران سے اردنی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے: النسور

دسمبر تک ادرن میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد 12 لاکھ ہونے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے وزیر اعظم عبداللہ النسور نے کہا ہے کہ شامی بحران سے ان کے ملک کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کی وجہ سے اردن کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے جلو میں عمان اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے مدد کی اپیل کرے گا۔

اردن کا دعوی ہے کہ ابتک ساڑھے چار لاکھ شامی پناہ گزین ملک داخل ہو چکے ہیں، جن میں ڈھائی لاکھ بچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بین الاقوامی ایجنسیز امسال دسمبر تک عمان میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد کو بارہ لاکھ تک پہنچتا دیکھ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تعداد اردن کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہو گی۔

بچوں کی بہبود کے لئے اقوام متحدہ کی ایجنسی 'یونیسف' کا کہنا ہے ہمیں مہاجر کیمپوں میں پینے کے صاف پانی، تعلیم اور ادویہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مزید رقم درکار ہو گی اور بروقت یہ امداد نہ ملنے کی صورت میں ایجنسی کو بعض ناگزیر خدمات کی فراہمی روکنا پڑے گی۔

عالمی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق یونیسف کو ابتک صرف بارہ ملین ڈالر ملے ہیں جبکہ تنظیم نے امسال اردن میں اپنے آپریشنز کے لئے ستاون ملین ڈالر کی اپیل کی تھی۔

گزشتہ ہفتے اردن نے متحدہ عرب امارات کی امداد سے الزعتری کے بعد شامی پناہ گزینوں کے لئے ایک اور کیمپ کھولا ہے۔ دارلحکومت عمان کے جنوب مشرق میں پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تیرہ ہزار ایکٹر پر محیط اس خیمہ بستی میں ایک ہسپتال، سکول بھی قائم کیا گیا ہے۔ کیمپ میں ساڑھے پانچ ہزار افراد کو بسانے کی گنجائش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں