شامی معرکے میں حزب اللہ جنگجوؤں کی شمولیت ثابت

'العربیہ' نے پبلک کیمیٹوں کی فوٹیج چلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام اور لبنان کی سرحد پر حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے نگران آپریشن کی اجازت سے اس خبر میں دی گئی تصویر لی گئی ہے۔ ان تصویروں سے پہلی بار حزب اللہ کے جنگجو بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ علانیہ طور پر لڑتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

حزب اللہ کے یہ جنگجو پبلک کمیٹیوں کے رکن کہلاتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں شام میں شیعہ قصبات کے تحفظ کی خاطر تشکیل دی گئی ہیں جو دراصل لبنان کی شیعہ ملیشیا کی جانب سے شامی علاقوں میں اپنے جنگجوؤں کی موجودگی کا پہلا اعتراف ہے۔

شام میں شیعہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ فورس دیہات میں انہیں مسلح افراد [یعنی شامی اپوزیشن] سے محفوظ رکھنے کے لئے موجود ہے۔

ان علاقوں میں حزب اللہ سے شدید لڑائی جاری رہتی ہے۔ اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر حزب اللہ کو اس بات کو مورد الزام ٹہراتی ہے کہ شیعہ تنظیم نے متعدد شامی دیہات پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان جگہوں کو جیش الحر کے خلاف کارروائیوں کے لئے استعمال کرتی ہے تاکہ انہیں روز بروز حاصل ہونے والی کامیابیوں کے آگے بند باندھا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں