عراق: پے در پے کار بم دھماکوں میں 23 افراد ہلاک، 200 زخمی

طوزخرماتو، کرکوک، ناصریہ اور بغداد میں سکیورٹی فورسز پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے مختلف شہروں میں سوموار کو پے درپے گیارہ کار بم حملوں اوربم دھماکوں کے نتیجے میں تئیس افراد ہلاک اور دوسو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک ،شمالی شہروں کرکوک، طوزخرماتو، وسطی شہر سامراء اور جنوبی شہروں حلہ اور ناصریہ میں بارود سے بھری کاروں سے دھماکے کیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ بغداد ائیر پورٹ کے داخلی راستے کے نزدیک نامعلوم افراد نے بارود سے بھری دو گاڑیاں کھڑی کی تھیں جب وہاں معمول کی تلاشی لی جارہی تھی تو ان گاڑیوں کو چند سیکنڈز ہی میں دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکوں میں ائیرپورٹ آنے والے دومسافر مارے گئے ہیں۔

سب سے تباہ کن حملہ بغداد سے شمال میں ایک سو ستر کلومیٹر دورو واقع شہر طوزخرماتو میں کیا گیا اور وہاں صبح آٹھ بجے کے قریب پولیس کی گشتی پارٹیوں کو چار بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ان میں چھے افراد ہلاک اور سڑسٹھ زخمی ہوگئے۔

عراق میں یہ پے در پے بم دھماکے صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے لیے پولنگ سے صرف چار روز قبل ہوئے ہیں۔ عراق کے اٹھارہ میں سے بارہ صوبوں کی کونسلوں کی تین سو اٹھہتر نشستوں کے لیے آیندہ ہفتے کے روز ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان نشستوں کے لیے آٹھ ہزار سے زیادہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔واضح رہے کہ اب تک بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں چودہ انتخابی امیدوار بھی مارے جا چکے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ہوئے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔کچھ عرصہ قبل عراق میں القاعدہ کے فرنٹ گروپ نے بم حملوں کی دھمکی دی تھی۔اس تنظیم نے خبردار کیا تھا کہ وہ ملک کے شمالی علاقوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں القاعدہ کی شاخ شام میں جاری کشیدگی سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے اور وہ شام میں موجود اپنے ہم خیال جنگجوؤں کے لیے عراقی قبائلیوں سے رقوم اور اسلحہ بھی اکٹھا کررہی ہے۔

عراق میں القاعدہ (ریاست اسلامی) کا 2007ء سے قبل ملک کے سنی آبادی والے علاقوں پر موثر کنٹرول تھا لیکن امریکی فوج اور عراقی حکومت نے سنی جنگجوؤں اور قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر القاعدہ کی کمر توڑ دی تھی۔تاہم اس کے باوجود یہ جنگجو تنظیم اب بھی بڑے حملے کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔اس جنگجو تنظیم کے علاوہ سابق حکمران اور اب کالعدم بعث پارٹی کے بچے کھچے وابستگان پر بھی دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں