"کویت پر حملے کے وقت صدام حسین ذہنی طور پر بیمار تھا"

سابق وزیر خارجہ طارق عزیر کی علی الدباغ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کا سن 1990 میں کویت پر حملے کے وقت ذہنی طور پر 'بیمار' تھے۔ صدام کا منحرف داماد ایک 'سرطان' بن چکا تھا جو اپنے سسر کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا تھا۔"

ان خیالات کا اظہار صدام حسین دور کے سابق مرد آہن اور ڈپٹی وزیر اعظم طارق عزیز نے عراقی حکومت کے سابق ترجمان علی دباغ کو خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ تین گھنٹوں پر مشتمل یہ گفتگو صرف 'العربیہ' ٹی وی پر اٹھارہ اپریل کو نشر کی جائے گی۔

صدام حسین کے دست راست اور وزیر خارجہ طارق عزیز نے انٹرویو میں عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں کھل کر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انہوں نے صدام حسین کے خاندان سے اپنے بنتے بگڑتے تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عراقی صدر کے منحرف داماد حسین کامل کو 'کینسر' سے تعبیر کیا کہ جو اپنے سسر کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

علی الدباغ سے گفتگو میں طارق عزیز نے ان اطلاعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا جن میں کہا گیا تھا کہ جرمنی اور سپین نے عراق کو کیمیاوی ہتھیار فراہم کئے ہیں۔

امریکی قیادت میں کئے جانے والے حملے میں صدام حسین کا اقتدار سن 2003ء میں ختم ہو گیا تھا۔ ان کی حکومت پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا، جن کا سراغ آج تک نہیں مل سکا۔ صدام حسین کو اپنے دور اقتدار میں انسانیت سوز جرائم کی پاداش میں سن 2006ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں