.

حسنی مبارک رہائی کے حکم کے باوجود زیرحراست رہیں گے

مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی ازسرنو سماعت کے بعد ضمانت پر رہائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق علیل صدر حسنی مبارک ایک جج کی جانب سے ان کی ضمانت پر رہائی کے لیے جاری کردہ احکامات کے باوجود زیر حراست ہی رہیں گے اور انھیں جیل سے رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی تو ازسرنو سماعت کی جارہی ہے لیکن ان پر دیگر الزامات کے تحت قائم کیے گَئے مقدمات کی الگ سے حسب سابق سماعت جاری رہے گی۔

حسنی مبارک اپنی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں زیادہ سے زیادہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور قانون کے تحت جج نے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ ان کے خلاف قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی از سرنو سماعت کے درخواست منظور کرلی گئی تھی لیکن ابھی تک اس مقدمے کو دوبارہ نہیں کھولا گیا کیونکہ بعض قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بار بار اس میں التوا ہورہا ہے اور اب کہ عدالت کے صدر جج نے اس کی دوبارہ سماعت سے انکار کردیا ہے۔

مصر کے چوراسی سالہ سابق صدر اور ان کے وزیرداخلہ حبیب العادلی کو جون 2012ء میں قاہرہ کی ایک عدالت نے مظاہرین پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کے الزام میں قائم کیے گئے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔حسنی مبارک کے خلاف 25جنوری سے 11فروری 2011ء تک پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران آٹھ سو چھیالیس افراد مارے گئے تھے اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

مصر کی اعلیٰ اپیل کورٹ نے سابق صدر اور ان کے وزیرداخلہ اور استغاثہ کی جانب سے اس کیس کے دوبارہ ٹرائل کے لیے اپیلیں منظور کر لی تھیں۔عدالتی حکام کے مطابق جج نے حسنی مبارک کو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں ان پرعاید کردہ الزامات پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔تاہم ان پر عاید کردہ دیگر الزامات کے تحت ان کی فوری رہائی ممکن نہیں ہے۔

حسنی مبارک کو کچھ عرصہ قبل خرابیٔ صحت کی بنا پر جیل سے قاہرہ کے نواح میں واقع ایک فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا اور ہفتے کے روز انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے عدالت لایا گیا۔پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے ان کی صحت کا اندازہ کرنے کے لیے ان کی فوری میڈیکل رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تھا تا کہ اگر وہ فٹ ہوگئے ہیں تو انھیں دوبارہ جیل میں بھیجا جاسکے۔حسنی مبارک معدے کے کینسر کے علاوہ مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔