.

شامی صدر بشارالاسد کا عام معافی کا اعلان

عوامی احتجاجی تحریک کے بعد سے متعدد فرامین کا اجرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے تازہ فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت 16 اپریل سے قبل سر زد ہونیوالے جرائم کیلئے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی سانا کے مطابق منگل کے روز جاری کردہ 23 ویں فرمان کے مطابق سخت جرائم کرنیوالوں کے لئے سزائے موت کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کیا جائے گا۔ بشار الاسد مارچ2011ء میں اپنی حکومت کے خلاف پھوٹنے والی احتجاجی تحریک کے بعد سے متعدد فرمان جاری کرچکے ہیں۔

'سانا' کی طرف سے شائع ہونیوالے فرمان کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ تازہ ترین معافی نامہ ان افراد پر لاگو نہیں ہو گا جو ہتھیار یا منشیات کی سمگلنگ سے متعلق جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم جن لوگوں نے بغاوت میں شمولیت اختیار کی انہیں معمولی سزائیں دی جائینگی ۔

فرمان کے مطابق: "شامی باشندے جنہوں نے دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی انہیں اپنی سزا کا صرف چوتھائی حصہ پورا کرنا پڑے گا۔" مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ "فیصلے کا اطلاق ان لوگوں پر نہیں ہو گا جنہوں نے جبری طورپر عسکری خدمت سے دستبرداری اختیار کی۔"

خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نواز ٹیلی ویژن 'الاخباریہ' بدھ کے روز شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ ایک انٹرویو نشر کرے گا۔ چینل کا اپنے فیس بک پیج پر کہنا تھا کہ شام کے 'الاخباریہ' ٹی وی نے صدر بشار الاسد کے ساتھ خصوصی انٹرویو کیا ہے اور یہ انٹرویو بدھ کے روز رات 9:30 بجے (1830 گرنیچ معیاری وقت) پر نشر کیا جائے گا۔ الاخباریہ نے ایک تصویر بھی شائع کی ہے جس میں اسد کو ایک دفتر میں دو صحافیوں کے ساتھ بیھٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

بشار الاسد نے آخری مرتبہ عوامی سطح پر نمودار ہوتے وقت دو ترک میڈیا اداروں کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے سے، خطہ کئی سالوں تک عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ پانچ اپریل کو انہوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اگر شام منقسم ہوتا ہے یا اگر دہشت گرد قوتیں ملک کا کنٹرول سنبھالتی ہیں تو اس کے قریبی ممالک میں براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔