.

بشارالاسد ٹی وی انٹرویو میں اردن اور دیگر ہمسایہ ممالک پر برس پڑے

باغی جنگجوؤں کی حمایت پر مغربی اور عرب ممالک پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد ایک ٹی وی انٹرویو میں اردن اور اپنے دوسرے ہمسایہ مگر مخالف ممالک پر برس پڑے ہیں اور انھوں نے ان ممالک پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے باغی جنگجوؤں کو سرحدوں علاقوں سے آزادانہ نقل وحرکت شام میں داخلے کی اجازت دے رکھی ہے۔

بشارالاسد نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ شام میں تو سیکڑوں جنگجو ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہورہے ہیں لیکن اردن انھیں گرفتار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جبکہ وہ ہلکے ہتھیار کے ساتھ فلسطین میں مزاحمت کے لیے جانے والے کسی بھی شخص کو گرفتار کر لیتا ہے''۔

ان کا یہ انٹرویو بدھ کی رات شام کے یوم آزادی کے موقع پر نشر کیا جارہا ہے لیکن اس کے اقتباسات شامی صدر کے سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر موجود صفحے پر پوسٹ کیے گئے ہیں۔انھوں نے اس انٹرویو میں ''ہمسایہ ممالک ،جان کیری کے خطے کے حالیہ دورے ،شام کی داخلی صورت حال اور فرقہ واریت اور تقسیم کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔

شام 1946ء میں فرانسیسی قبضے سے آزاد ہوا تھا۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن پر انٹرویو کو نشر کرنے سے پہلے فرانسیسی انتداب کے (1946-1920) دوران حریت پسندوں کی کارروائیوں اور آج کی شامی فوج کی فوٹیج نشر کی ہے اور ان کے درمیان ایک موازنہ کیا گیا ہے۔

ٹی وی نے اپنے نشریے میں کہا ہے کہ ''شام سے آخری فرانسیسی فوجی کا انخلاء اور اس کی یاد ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور ہماری آج کی بہادر فوج کے ہیروز بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں''۔

قبل ازیں شام کی وزارت خارجہ نے فرانس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے داخلی امور میں مداخلت کا سلسلہ بند کردے۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ''شامی عوام فرانس کو دوبارہ مسلح دہشت گردوں کی حمایت کے ذریعے اپنے ملک میں لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے''۔

شامی صدر نے گذشتہ روز بھگوڑے فوجیوں کو عام معافی دینے یا انھیں ہلکی سزائیں دینے سے متعلق حکم نامہ جاری کیا تھا۔تاہم اس کا باغی جنگجوؤں پر اطلاق نہیں ہوگا۔فرانس نے شامی صدر کی جانب سے سابق فوجیوں کے لیے عام معافی کے اس اعلان کو مسترد کردیا ہے۔

درایں اثناء بشارالاسد کے اتحادی ملک روس نے خبردار کیا ہے کہ ''دوستان شام'' نامی گروپ میں شامل ممالک بحران کے حل کے لیے منفی کردار ادا کررہے ہیں۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس گروپ کے کردار سے گذشتہ سال جنیوا میں طے پائے فیصلوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں''۔

ادھر شام میں باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان مختلف علاقوں میں لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ جھڑپوں میں اٹھارہ بچوں اور تیرہ فوجیوں سمیت پچاس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے جنگجو شام کے وسطی صوبے حمص میں باغی جنگجوؤں کے خلاف میدان جنگ میں لڑائی لڑ رہے ہیں اور شامی حکومت بھی ان پر بہت انحصار کر رہی ہے۔