.

حسنی مبارک کے خلاف 11 مئی سے مقدمے کی دوبارہ سماعت ہوگی

مصری پراسیکیوٹر جنرل کا سابق صدر کو دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی گیارہ مئی کو دوبارہ سماعت ہوگی جبکہ پراسیکیوٹر جنرل نے انھیں دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کا دوبارہ ٹرائل 13 اپریل کو شروع ہونا تھا لیکن عدالت کے جج مصطفیٰ حسن عبداللہ اس مقدمے سے الگ ہوگئے تھے اور انھوں نے نئے جج کے تقرر کے لیے کیس اپیل عدالت کو بھیج دیا تھا۔

مصر کے چوراسی سالہ سابق صدر اور ان کے وزیرداخلہ حبیب العادلی کو جون 2012ء میں قاہرہ کی ایک عدالت نے مظاہرین پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کے الزام میں قائم کیے گئے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔حسنی مبارک کے خلاف 25جنوری سے 11فروری 2011ء تک پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران آٹھ سو چھیالیس افراد مارے گئے تھے اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

مصر کی اعلیٰ اپیل کورٹ نے سابق صدر اور ان کے وزیرداخلہ اور استغاثہ کی جانب سے اس کیس کے دوبارہ ٹرائل کے لیے اپیلیں منظور کر لی تھیں۔حسنی مبارک مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں زیادہ سے زیادہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور قانون کے تحت جج انھیں ہفتے کے روز رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ ضمانت پر رہائی کے لیے جاری کردہ احکامات کے باوجود زیر حراست ہی رہیں گے اور انھیں سے رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان پر دیگر الزامات کے تحت قائم کیے گَئے مقدمات کی الگ سے حسب سابق سماعت جاری رہے گی۔

درایں اثناء مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے حسنی مبارک کی صحت بحال ہونے کے بعد انھیں دوبارہ طرہ جیل میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔انھیں کچھ عرصہ قبل خرابیٔ صحت کی بنا پر جیل سے قاہرہ کے نواح میں واقع فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا اور ہفتے کے روز انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے عدالت لایا گیا۔پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے ان کی صحت کا اندازہ کرنے کے لیے ان کی فوری میڈیکل رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تھا تا کہ اگر وہ فٹ ہوگئے ہیں تو انھیں دوبارہ جیل میں بھیجا جاسکے۔حسنی مبارک معدے کے کینسر کے علاوہ مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔