.

اردن نے شام میں فوجی مداخلت کی مخالفت کردی

اردنی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے 200 امریکی فوجیوں کی عمان آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے شام میں فوجی مداخلت کی مخالفت کردی ہے جبکہ شامی صدر بشارالاسد نے خبردار کیا ہے کہ شامی بحران اردنی ریاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اردن کے وزیرخارجہ محمد مومنی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام کے بارے میں ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ہم اب بھی شام میں فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔ہم شام میں خونریزی کے خاتمے کے لیے تنازعے کا سیاسی حل چاہتے ہیں''۔

مومنی نے بدھ کو مزید دوسو امریکی فوجیوں کی اردن آمد کی تصدیق کی ہے۔ان فوجیوں کو شام اور اردن کے درمیان سرحد پر کشیدگی کے خاتمے اور شامی مہاجرین کی آمد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ امریکی فوجی ہماری سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے آرہے ہیں۔

اردن کی طرح اس کا پشتی بان امریکا بھی شام میں فوجی مداخلت کی مخالفت کررہا ہے۔امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے گذشتہ روز سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شام میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ امریکا شامی تنازعے کے پھیلنے کی صورت میں مختلف امکانات پر غور کررہا ہے۔

انھوں نے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ارکان کانگریس کے سوالوں کے جواب دینے گریز کیا اور کہا کہ اس حوالے سے امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر ہی بہتر جواب دے سکتے ہیں اور وہ جمعرات کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کی اطلاعات سے سینیٹ کی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔