.

بشار نواز فوجیوں کا مشتبہ علوی مسلکی اسلحہ سمگلروں پر تشدد

خفیہ ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں خفیہ طور پر بنائی گئی ایک ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے توسط سے ان دنوں انٹرنیٹ پر دھڑا دھڑ منتقل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں شامی فوجی چند مشتبہ علوی مسلک فوجی افسروں پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں جو مبینہ طور پر شامی اپوزیشن کو اسلحہ سمگل کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

شامی رضاکاروں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کردہ اس ویڈیو میں شام کے سرکاری نیوز چینل کا ایک نمائندہ 'پرتشدد تفتیش' کے دوران نظر آ رہا ہے۔ تفتیشی افسر مشتبہ ملزموں پر تھپڑوں کی بارش کے دوران ان سے مبینہ اسلحہ سمگلنگ کے بارے میں سوال کرتے سنے اور دیکھے جا سکتے ہیں۔ تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کو بڑے آہنی ڈرموں کے اندر آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ باندھ کر ایسے کھڑا کیا گیا ہے کہ جس میں ان کا صرف چہرہ ڈرم سے باہر دکھائی دیتا ہے جس پر تفتیشی افسر تھپڑوں کی بارش کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

حالیہ ویڈیو خفیہ طور پر لیک کی جانے والی سیکڑوں ویڈیوز میں سے ایک ہے جس میں شامی فوج کے افسر نہتے شہریوں پر بہیمانہ تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کے مندرجات اور اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کی تاریخ کے بارے میں تصدیق نہیں کر جا سکتی۔