.

کویت نے شامیوں کے لیے 30 کروڑ ڈالرز امداد کا وعدہ ایفاء کردیا

دوسرے ممالک سے ڈونرز کانفرنس میں کیے گئے وعدے پورے کرنے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت نے شامی مہاجرین کے لیے تیس کروڑ ڈالرز کی امداد اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے حوالے کردی ہے اور دوسرے ممالک سے کہا ہے کہ وہ بھی ڈونرز کانفرنس میں کیے گئے وعدوں کو ایفاء کریں۔

کویت نے جنوری میں شامی مہاجرین کے لیے منعقدہ ڈونرز کانفرنس کے موقع پراس امداد کا اعلان کیا تھا اور اب اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔جنیوا میں کویت کے سفیر ضرار عبدالرزاق رزوقی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اپنے الفاظ کو عمل کا جامہ پہنا رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی آگے بڑھیں گے اور کویت کانفرنس میں کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے''۔

کویت نے خانہ جنگی سے متاثرہ شامیوں کے لیے اپنی امدادی رقم اقوام متحدہ کے تحت نو اداروں اور ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے حوالے کی ہے۔کویت میں جنوری میں منعقدہ ڈونرز کانفرنس میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد کے وعدے کیے گئے تھے۔اس میں سے باون کروڑ ڈالرز خانہ جنگی کے نتیجے میں شام کے اندر دربدر ہونے والے افراد کے لیے مختص کیے گئے تھے اور باقی رقوم شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کو دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے مطابق جمعرات تک بعض ممالک کی جانب سے موعودہ رقم میں سے صرف تیس فیصد نقد مہیا کی گئی ہے اور اب کویت کی جانب سے رقم ملنے کے بعد پچاس فی صد وعدے پورے ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں۔آزاد ذرائع ہلاکتوں کی تعداد نوے ہزار سے زیادہ بتاتے ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ان میں سے ساڑھے تیرہ لاکھ اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں چلے گئے ہیں اور وہاں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی اطلاع کے مطابق اس وقت روزانہ آٹھ ہزار سے زیادہ شامی ہجرت کررہے ہیں اور پڑوسی ممالک میں جارہے ہیں۔