.

مصری کامیڈین باسم یوسف ٹائم کی 100 بااثر شخصیات میں شامل

صدر مرسی پر طنز کے نشتر چلانے سے عالمگیر شہرت مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹائم میگزین نے مصر کے معروف کامیڈین باسم یوسف کا نام 2013ء کے لیے دنیا کی ایک سو بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

انتالیس سالہ باسم یوسف نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنے ٹی وی شو ''البرنامج'' کے ذریعے عالمگیر شہرت حاصل کی ہے۔وہ مصر کے پہلے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کے سخت نقاد ہیں اور اپنے پروگراموں میں ان کا اور ان کی پالیسیوں کا مضحکہ اڑاتے رہتے ہیں۔

انھوں نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ٹائم کی ایک سو عالمی شخصیات میں اپنے نام کی شمولیت کو ایک اعزاز قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ ٹائم میگزین ہرسال پانچ زمروں میں دنیا کی سب سے بااثر ایک سو شخصیات کی فہرست جاری کرتا ہے۔دنیا بھر کے عالی دماغ اور دبنگ افراد، لیڈروں ،فن کاروں ،بانیوں اور آئی کونز میں سے بیس، بیس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

باسم یوسف کو بانیوں کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی کامیڈین جان اسٹوارٹ نے لکھا ہے کہ ''وہ میرا ہیرو ہے''۔دوسری جانب باسم یوسف امریکی طناز کو اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے وہ ان سے متاثر ہیں۔ وہ جان اسٹیوارٹ کے ''ڈیلی شو'' کے طرز پر ہی مصری ٹی وی پر اپنا پروگرام ''البرنامج'' پیش کرتے ہیں۔

جان اسٹوارٹ نے لکھا ہے کہ ''مجھ میں اور ان (باسم یوسف) میں حقیقی فرق یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں طنز کا مظاہرہ کررہے ہیں جو ابھی محدود آزادی کا مزہ چکھ رہا ہے اور جہاں طاقتوروں کے خلاف بولنے والوں کو خطرات کا سامنا ہے.

باسم یوسف نے اپنے شو میں اظہاررائے کی آزادی کے پردے میں ماضی میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی پر طنز کے نشتر چلاتے رہتے ہیں۔اس پر انھیں مصری صدر کے حامیوں کی جانب سے دائرکردہ مختلف مقدمات کا بھی سامنا ہے۔اس کے علاوہ ان کے خلاف پاکستان کی توہین ،الحاد کی تبلیغ اور اسلام کی توہین کے الزامات میں تحقیقات بھی کی جارہی ہے۔

انھوں نے اپنے ایک حالیہ پروگرام میں صدر مرسی کے اس ہیٹ سے کہیں بڑا ہیٹ سر پر اوڑھ رکھا تھا جو انھوں نے پاکستان کے دورے کے موقع پر اسلام آباد میں ایک جامعہ سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری وصول کرتے وقت پہنا تھا۔عدالتی ذرائع کے مطابق باسم یوسف پر پاکستانی ریاست کی توہین اور اس کے مصر کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کا موجب بننے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ان کے خلاف دائرکردہ ایک اور درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اسلام کے پانچ ارکان میں سے سب سے اہم رکن نماز کا مضحکہ اڑایا تھا اور ملک میں الحاد پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ان کے خلاف دائرکردہ تیسری درخواست میں الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے مارچ میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر میں پیشی کے وقت ایک وکیل اورعدالت کے باہر تعینات پولیس افسروں کی توہین کی تھی۔

ان کے خلاف صدر مرسی کے حامیوں نے چار شکایات درج کرائی تھیں۔اس پر مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور دوہفتے قبل ان سے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر میں صدر مرسی اور مذہب اسلام کی توہین کے الزام میں پانچ گھنٹے تک تفتیش کی گئی تھی۔اس کے بعد انھیں ضمانت پر رہائی کے لیے پندرہ ہزارمصری پونڈز ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔