.

قاہرہ میں اخوان کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں، 40 افراد زخمی

اسلامی جماعتوں کے زیراہتمام عدلیہ مخالف مظاہرے میں ہزاروں افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکمراں جماعت اخوان المسلمون اور اس کی ہم نوا اسلامی جماعتوں کی ''عدلیہ کی تطہیر'' کے عنوان سے قاہرہ میں نکالی گئی ریلی کے دوران حکومت کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں چالیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اخوان السلمون اور دیگر اسلامی جماعتوں کے کارکنان قاہرہ کے وسط میں ریاستی اداروں میں کرپشن کے خاتمے ،مصر کی لوٹی گئی دولت کی واپسی اور مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث عہدے داروں کے خلاف مقدمات چلانے کے حق میں نمازجمعہ کے بعد ریلی نکالی تھی اور انھوں نے عدلیہ کی تطہیر کے حق میں نعرے بازی کی۔

اسلامی جماعتوں کے کارکنان نے جونہی میدان التحریر کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو ان پر مرسی مخالف نوجوانوں نے دھاوا بول دیا۔ان میں سے بعض حملہ آور نقاب پوش تھے۔یہ واضح نہیں ہوا کہ لڑائی کس فریق نے شروع کی تھی۔تاہم انھوں نے ایک دوسرے کی جانب پتھراؤ کیا۔ان میں سے بعض کے پاس آہنی راڈ اور لاٹھیاں تھیں جو وہ ایک دوسرے پر برسا رہے تھے۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی اطلاع کے مطابق جھڑپوں میں انتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

میدان التحریر میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے دوران العربیہ ٹی وی کے نشریاتی آلات توڑ دیے گئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق جھڑپوں کے آغاز کے کوئی ایک گھنٹے کے بعد پولیس تین بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ پہنچی تھی اور اس نے آتے ہی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے برسانا شروع کردیے ہیں۔

مصری دارالحکومت میں نماز جمعہ کے بعد اخوان المسلمون کے علاوہ حازم صلاح ابو اسماعیل کی جماعت الرائے،سلفیوں کی الاصلاح ،الوطن پارٹی ،الجماعۃ الاسلامیہ کی تعمیر وترقی پارٹی ،اصلاح پارٹی اور پیپلز پارٹی نے عوام سے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی تھی۔تاہم سلفیوں کی بڑی جماعت النور نے ان ریلیوں میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ ریلی کے نتیجے میں تشدد آمیز واقعات رونما ہوسکتے ہیں جس سے حالات اور خراب ہوں گے اور ایسے ہی ہوا ہے۔

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کے میڈیا مشیر مراد علی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''مصری عوام نے انصاف کے حصول اور بدعنوانوں کو قابل احتساب ٹھہرانے کے لیے عظیم انقلاب برپا کیا تھا۔اگر عدلیہ انصاف نہیں کرسکتی ہے۔اگر معزز جج صاحبان ہمارے بیٹوں کے قاتلوں ،ہماری بیٹیوں پر حملہ آور ہونے اور ہماری دولت اور وسائل کو لوٹنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے ناکام رہتے ہیں تو اس سے انصاف عدم توازن کا شکار ہوگا''۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے نوجوانوں پر مشتمل چھے اپریل تحریک نے عدلیہ مخالف ریلی کا بائیکاٹ کیا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کی اپیل ایک ایسی جماعت نے کی ہے جو عدلیہ کی آزادی پر قدغنیں لگارہی ہے اور اس کو اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لیے بھی استعمال کررہی ہے۔

حزب اختلاف کے بڑے گروپ قومی محاذ آزادی (این ایس ایف) نے اخوان المسلمون کی جانب سے عدلیہ مخالف مظاہروں کی اپیل کی مذمت کی ہے۔اہرام آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس اتحاد کے لیڈروں نے اسلامی جماعت پر الزام عاید کیا کہ وہ ریاست کے تمام اداروں پر اپنا اثرورسوخ قائم کرنا چاہتی ہے اور مصر کی معزز عدلیہ کو بھی دباؤ میں لانے کی کوشش کررہی ہے۔