.

"طارق عزیز زندگی کے آخری ایام ہمارے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں"

اسیرعراقی رہنما کی اہلیہ عقیلہ طارق کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ٹی وی پر صدام حسین دور کے طاقتور ترین نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ طارق عزیز کے خصوصی انٹرویو نشر ہونے کے بعد زیر حراست عراقی رہنما کے اہل خانہ انتہائی جذباتی ہو گئے۔

طارق عزیز کی اہلیہ عقیلہ طارق نے اپنے شوہر کے ٹی وی انٹرویو کے بعد 'العربیہ' کے نامہ نگار سعد السیلاوی نے اردن میں اپنی رہائش گاہ پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طارق عزیز کا نشر کردہ انٹرویو دو برس پرانا ہے اس میں وہ اچھی صحت میں دکھائی دیتے ہیں۔ بہ قول عقیلہ طارق اب صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ وہ انتہائی علیل ہو چکے ہیں۔ انہیں پیرانہ سالی کے امراض ذیابیطس، بلند فشار خون سمیت دل کا عارضہ بھی لاحق ہے۔ عقیلہ طارق کا اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد کسی بھی نیوز چینل کو یہ پہلا انٹرویو تھا۔

انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ میں جب ان سے ملاقات کے لئے جاتی ہوں تو یہ ملاقات کسی کمرے میں نہیں بلکہ کھلے آسمان تلے دھوپ میں ہوتی ہے۔ طارق کو بیٹھنے کے لئے مناسب کرسی تک نہیں دی جاتی۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ جیل انتظامیہ انہیں ادویہ فراہم نہیں کرتی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ریکارڈ شدہ انٹرویو کے بعد سے ابتک انہیں چار مرتبہ دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔ آخر بار انہیں یہ عارضہ ایک ماہ قبل لاحق ہوا تھا۔

عقیلہ طارق عراقی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ طارق عزیز کی رہائی میں تعاون کریں تاکہ بزرگ عراقی سیاستدان اپنے آخری ایام اہل خانہ کے ساتھ گزار سکیں۔ بہ قول عقیلہ ایسا کرنا طارق عزیز کی قومی خدمات کا اعتراف ہو گا۔ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کر کے کسی کی ذاتی نہیں بلکہ قومی خدمت کی ہے۔

طارق عزیز کے بیٹے زیاد نے بھی العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہ ان کے والد کا نشر کردہ انٹرویو پرانا تھا اور وہ اس جیل میں ریکارڈ نہیں ہوا جہاں وہ آج کل قید ہیں بلکہ مذکورہ انٹرویو عدالت کی عمارت میں ریکارڈ ہوا تھا۔ ریاد نے العربیہ ٹی وی کا شکریہ ادا کیا کہ نیوز چینل کے توسط سے تقریبا دس برس ان کی والد سے سکرین پر ملاقات کرا دی کیونکہ گرفتاری کے بعد سے ابتک وہ ایک مرتبہ بھی اپنے والد کو ملنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔