.

عراق کے صوبائی انتخابات مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع

ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 50 فیصد رہا: الیکشن کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انخلاء کے بعد عراق کے پہلے صوبائی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، جس دوران کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

دو سُنی اکثریتی صوبوں نینوا اور انبار میں البتہ سلامتی کی ناگفتہ صورتحال کے سبب ووٹنگ نہیں ہوئی۔ بغداد حکومت نے گزشتہ ماہ غیر متوقع طور پر نینوا اور انبار میں سکیورٹی خدشات کے سبب ووٹنگ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان دو صوبوں میں گزشتہ چار ہفتوں سے شدید حکومت مخالف مظاہرے بھی ہورہے ہیں۔

یاد رہے حالیہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب عراق کی سُنی اقلیت اور شیعہ اکثریت کے مابین تناؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی حملے کے بعد سے شیعہ اکثریت سیاسی حوالے سے بالادست پوزیشن پر ہے۔ اس فرقہ ورانہ کشیدگی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ بہت سے رائے دہندگان کو مذہبی رہنماوں نے ووٹ دینے کی ترغیب دی تھی.

عراق میں سال 2010ء کے عام انتخابات کی طرح اب کی بار بھی وزیر اعظم نوری المالکی کے شیعہ اکثریتی اتحاد دولة القانون کا مقابلہ سیکولر امیدوار ایاد العلاوی کے العراقیہ اتحاد سے ہے، جس کے کچھ سابقہ سُنی حامیوں نے اب آزاد حیثیت سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔

الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق 50 فیصد اہل رائے دہندگان نے ووٹ دیا جوکہ 2009ء کے صوبائی انتخابات کے مساوی ٹرن آؤٹ ہے۔ انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ ان صوبائی انتخابات کے نتائج نہ صرف سیاسی دھڑوں کو حاصل عوامی حمایت کی عکاسی کریں گے بلکہ اس کے اثرات اگلے برس کے عام انتخابات پر بھی پڑسکتے ہیں۔ قریب پچاس انتخابی اتحادوں کے ہزاروں امیدواروں کے درمیان ہفتے کے روز387 صوبائی نشستوں کے لیے مقابلہ تھا۔ جیتنے والے امیدوار ملک میں مقامی سطح پر تعمیراتی اور دیگر متعلقہ امور بابت فیصلہ سازی کریں گے۔

سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات

بغداد حکومت نے انتخابات کے پر امن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی سکیورٹی انتظامات ترتیب دیے تھے۔ تمام بڑے شہروں اور شاہراہوں پر گاڑیاں چلانے کی ممانعت تھی۔ کچھ پولنگ اسٹیشنز کے پاس چھوٹے پیمانے کے بم حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا۔ ہفتے کے روز ملک بھر سے چھے افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں جو گزشتہ ہفتے کی خونریزی کے مقابلے میں خاصی بہتر صورتحال ہے۔ رواں ہفتے کے دوران بم دھماکوں میں قریب ایک سو عام شہری اور چودہ انتخابی امیدوار مارے جا چکے ہیں۔