.

شامی قومی اتحاد کے سربراہ دوبارہ اپنے عہدے سے دستبردار

معاذ الخطیب نے اتحاد کے ارکان کو ای میل کے ذریعے استعفیٰ بھیج دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد (ایس این سی) کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے دوبارہ اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے اور اتحاد کے ارکان کو بذریعہ ای میل اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔

قومی اتحاد کے ایک رکن مروان حاجو نے اتوار کو بتایا ہے کہ معاذ الخطیب نے اتحاد کے ارکان کو بھیجے گئے ای میل میں پیغام میں لکھا ہے کہ ''وہ صدر کے عہدے سے دستبردار ہورہے ہیں لیکن قومی اتحاد میں صوبہ دمشق کی نمائندگی جاری رکھیں گے''۔

ایس این سی کے سربراہ نے ہفتے کے روز استنبول میں منعقدہ ''دوستان شام کانفرنس'' کے شرکاء کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے کو چھوڑ رہے ہیں۔

احمد معاذ الخطیب نے گذشتہ ماہ اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا لیکن اتحاد کی جنرل اسمبلی نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔البتہ اب مروان حاجو کے بہ قول ان کا استعفیٰ حتمی ہے اور وہ اسے واپس نہیں لیں گے۔

درایں اثناء ایس این سی کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اتحاد کے ارکان نے استنبول میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے مشاورت شروع کردی ہے۔ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق دس مئی کو اتحاد کا آیندہ اجلاس ہوگا اور اس میں نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔

مروان حاجو کے بہ قول معاذ الخطیب نے عالمی برادری کی جانب سے شامی عوام کی حمایت میں کوئی اقدام نہ کرنے کے ردعمل میں استعفیٰ دیا ہے۔انھوں نے عالمی برادری اور دوستان شام گروپ سے شامی عوام کو اپنے دفاع کے لیے بھاری ہتھیار مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس مطالبے کو درخور اعتناء نہیں جانا اور وہ اپنے مفادات کے مطابق اقدامات کررہی ہے۔

واضح رہے کہ معاذ الخطیب نے گذشتہ ماہ استعفے کے اعلان کے وقت اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا تھا:''میں قومی اتحاد سے مستعفی ہورہا ہوں تاکہ میں آزادی کے ساتھ کام کرسکوں کیونکہ یہ کسی ادارے کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے نہیں کیا جاسکتا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے عظیم شامی عوام اور اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر معاملات سرخ لکیر تک پہنچ گئے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔گذشتہ دوسال کے دوران ایک ظالم رجیم ہمیں ذبح کرتا رہا ہے لیکن دنیا اس بے مثال قتل عام کو محض دیکھتی ہی رہی ہے''۔احمد معاذ کے اس اعلان سے چند روز قبل ہی شامی قومی اتحاد نے استنبول میں اپنے اجلاس میں غسان ہیتو کو عبوری وزیراعظم منتخب کیا تھا۔

یادرہے کہ شامی قومی اتحاد نومبر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معرض وجود میں آیا تھا۔اس کو اب تک عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے علاوہ ترکی ،برطانیہ اور فرانس وغیرہ شامی عوام کے قانونی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرچکے ہیں اور عرب لیگ نے گذشتہ ماہ شام کی نشست بھی اس کو دے دی تھی۔