.

فلسطینی نوجوان کا مظاہرے میں بطور'انسانی ڈھال' استعمال

' مظاہرین کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے نوجوان کو سامنے لایا گیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس کی جانب سے ہتھکڑی لگے فلسطینی نوجوان کی مظاہرین کے سامنے پریڈ کرانے کی کارروائی پر انسانی حقوق کی انجمن نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'انسانی ڈھال' کی تذلیل قرار دیا ہے جبکہ صہیونی فوجی ترجمان اس اقدام کو پرتشدد ہنگامہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔

فلسطینی تنظیم ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل [ڈی سی آئی] کی جانب سے سماجی رابطے کی ویڈیو ویب سائٹ پر 76 سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو کلپ اپ لوڈ کیا گیا ہے جس میں سترہ سالہ فلسطینی نوجوان محمد کو ہلمٹ پہنے اسرائیلی پولیس اہلکار فوجی گاڑی سے زبردستی باہر نکال کر اپنے ساتھ کھڑا کرتے ہیں۔ نوجوان ہتھکڑی لگے ہاتھوں کو اپنے سر سے اوپر اٹھا کر پولیس اہلکاروں کے سامنے ایسے کھڑا ہو جاتا ہے جیسے صہیونی سورما اسے مظاہرین کے حملوں سے بچنے کی خاطر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہوں۔

یہ واقعہ مبینہ طور پر گزشتہ روز مشرقی بیت المقدس کے مضافاتی علاقے ابو دیس میں پیش آیا۔ اسرائیلی سرحدی پولیس کے ترجمان شاہئی ہیک چیمی کے فلسطینی نوجوان کو بطور انسانی شیلڈ استعمال کرنے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین کو منشتر کرنے والی پارٹی کے نگران افسر نے محمد کو مظاہرین کے سامنے اس لئے کھڑا کیا تاکہ انہیں یقین ہو سکے کہ وہ بخریت ہے اور اس طرح ان کے احتجاج میں کمی آ سکے۔