.

مصر کے وزیرانصاف عدلیہ پر ''حکومتی حملے'' کے بعد مستعفی

حکومت اور اسلامی جماعتوں کی عدلیہ مخالف مہم کے ردعمل میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیرانصاف احمد مکی اسلامی جماعتوں کی جانب سے عدلیہ مخالف مہم کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

مصر کی وزارت انصاف کے ترجمان احمد سلام نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ احمد مکی نے ہفتے کے روز صدر محمد مرسی کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔انھوں نے یہ فیصلہ جمعہ کو اخوان المسلمون اور صدر مرسی کی حامی دوسری جماعتوں کے عدلیہ مخالف مظاہرے کے ایک روز بعد کیا تھا۔

اخوان المسلمون اور اس کی ہم نوا اسلامی جماعتوں نے ''عدلیہ کی تطہیر'' کے عنوان سے عدلیہ کے خلاف مظاہرہ کیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ انھوں نے عدلیہ کی آزادی اور قانونی اداروں کے بدعنوان ارکان کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پارلیمان میں ایک بل بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کی منظوری کی صورت میں حکومت کو عدلیہ پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔

احمد مکی کو گذشتہ سال اگست میں مصر کا وزیر انصاف مقرر کیا گیا تھا۔مقامی میڈیا میں ان کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے لیے بل منظور کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔تاہم ابھی اس بل پر پارلیمان کے ایوان بالا میں رائے شماری نہیں ہوئی۔

احمد مکی سابق صدر حسنی مبارک کے دور حکومت میں آزاد عدلیہ کے پرجوش حامی رہے تھے لیکن وہ اسلامی جماعتوں کے حمایت یافتہ محمد مرسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی حکومت میں شامل ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ مصر کی انتظامی عدالت نے صدر مرسی کے سابق پراسیکیوٹر جنرل کی برطرفی اور اپریل سے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق احکامات کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔اس کے بعد سے مصری عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذآرائی پائی جارہی ہے۔