.

مصر:مرسی مخالف ''سیاہ بلاک'' کے سات مشتبہ ارکان گرفتار

سیاہ نقاب پوشوں پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں صدر محمد مرسی کے مخالف ایک نقاب پوش گروپ کے سات مبینہ ارکان کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے باقی ساتھیوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے مڈل ایسٹ نیوزایجنسی (مینا) نے اطلاع دی ہے کہ ''بلیک بلاک'' گروپ کے ارکان کو ملک میں تخریب کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ پندرہ روز تک زیرحراست رہیں گے۔

مرسی مخالف سیاہ بلاک کوئی معروف گروپ نہیں ہے۔اس نے 21 جنوری کو فیس بُک پر اپنی پہلی تصویر پوسٹ کی تھی اور اس کے چند ہی دنوں میں ہزاروں آن لائن حامی پیدا ہوگئے تھے۔تب مصر کے دارالحکومت قاہرہ،اسکندریہ اور نہرسویز کے کنارے واقع شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری تھے۔

''ناانصافی کے خلاف افراتفری'' اس گروپ کا نعرہ ہے اور اس کا کہنا ہے اس کی صرف اور صرف ایک ہی جماعت دشمن ہے اور وہ اخوان المسلمون ہے جس سے صدر محمدمرسی کا ماضی میں تعلق رہا ہے۔

مصر کا یہ حکومت مخالف گروپ یورپ میں عالمگیریت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے والے بلیک بلاک سے متاثر ہے اور اس کی طرح کے اس نے بھی حربے اختیار کیے ہیں۔اس کے ارکان بھی سیاہ لباس میں ملبوس اور نقاب پوش ہوتے ہیں۔

جنوری میں مصر کے پراسیکیوٹر جنرل طلعت عبداللہ نے پولیس ،آرمی افسروں اور عوام کو بلیک بلاک گروپ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی رکن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا اور ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لینے کا بھی الزام عاید کیا تھا۔گذشتہ ہفتے انھوں نے اس گروہ کے بائیس ارکان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔