اسرائیلی سرحد کی طویل بندش؛ فلسطینی کسان اپنی نباتات جلانے پر مجبور

پودینے اور تلسی پر مشتمل تین ٹن نباتات راکھ کا ڈھیر بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کے کسان اسرائیلی سرحد کی طویل بندش کی وجہ سے اپنے کھیتوں میں پیدا ہونے الی قیمتی نباتات اور جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ان میں پودینے سے سمیت تین ٹن دیگر قیمتی نباتات شامل ہیں کہ جنہیں یورپ برآمد کر کے منافع کمایا جانا تھا لیکن غزہ کو بین الاقوامی دنیا سے ملانے والی اسرائیل کی کمرشل سرحدی رہداریاں طویل مدت سے بند ہونے کی وجہ سے یہ قیمتی اب عالمی منڈی کے معیار کے مطابق نہیں رہی۔

فلسطینی کسانوں نے پانچ برس بعد پہلی مرتبہ امسال جڑی بوٹیاں برآمد کرنا شروع کی تھیں، لیکن موجودہ صورتحال میں وہ اپنی محنت کا پھل نہیں کھا سکے۔

غزہ کی زرعی ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جمال ابو النجا نے کہا ہے کہ "یہ ایک جرات مندانہ منصوبہ ہے اور ابتدائی مراحل میں ہے مگر سرحدی چوکیوں کی مسلسل بندش اس منصوبے کے تسلسل اور کامیابی کو متاثر کررہی ہے۔"

پچھلے سال اکتوبر کے دوران اسرائیل نے غزہ سے جڑی بوٹیوں اور مصالحہ جات کی برآمدات پر لگائی گئی پانچ سالہ پابندی اٹھا لی تھی اور کسانوں کو اس بات کی امید تھی کہ وہ پودینے اور تلسی کی حالیہ فصل سے فائدہ اٹھا لیں گے۔ یہ پابندی اسلامی گروپ حماس کے غزہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد لگائی گئی تھی۔

لیکن اسرائیل نے اس ماہ کے آغاز میں ہی غزہ کی واحد کمرشل کراسنگ کو بند کردیا تھا اور اس کی وجہ غزہ سے ایک راکٹ مقبوضہ فلسطین پر راکٹ باری بیان کی جاتی ہے۔ اس دوران مختصر دورانیے میں کراسنگ کو کھولا گیا کہ جس میں صرف کچھ اشیاء کی درآمد کی اجازت دی گئی۔

فلسطینی کسانوں نے بتایا کہ اس بندش کا انہیں اس وقت پتا چلا جب کہ وہ 2 ٹن پودینے اور ایک ٹن تلسی کی فصل کاٹنے کی تیاری کررہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب ان جڑی بوٹیوں کی حالت یورپی ممالک کو بیچنے والی نہیں رہی۔

ابو النجا نے بتایا ہے کہ "ہم اس موقع پر پہنچ چکے ہیں کہ جب ان جڑی بوٹیوں کو برآمد نہیں کیا جا سکتا ہے کیوںکہ سرحدی چوکیاں بہت دیر کے لئے بند کی جاچکی ہیں۔ تو اسی لئے ہم یہاں موجود فصلوں کو تلف کررہے ہیں اور کسان جڑی بوٹیاں کاٹ کر اپنے مویشیوں کو ڈال رہے ہیں۔"

پچھلے سال ابو نجا نے کسانوں کو اس پابندی کے اٹھائے جانے کا فائدہ اٹھانے کا کہا تھا کیوںکہ یورپی منڈیوں میں جڑی بوٹیوں اور مصالحوں کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے تاجر کسانوں کو ایک کلو پر 26 ڈالر دے رہے تھے جو کہ مقامی منڈی کی قیمت سے بہت زیادہ ہے۔

کسانوں کے مطابق جنوری سے اب تک 15 ٹن مصالحہ جات برآمد کئے جا چکے ہیں مگر حالیہ فصل کو کاٹ کر جلانا پڑا تھا۔

ایک کسان ایاد فروانہ کا کہنا تھا کہ "جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس سال کء دوران تلسی اور پودینے کی فصل اگائی گئی ہے مگر جب بھی فصل کاٹنے کا وقت آتا ہے تو سرحدی چوکیاں بند کردی جاتی ہیں اور تمام فصلیں تباہ کردی جاتی ہیں۔"

یورپ برآمد کئے جانے والی دوسری مصنوعات جن میں اسٹرابیری، ٹماٹر اور پھل شامل ہیں تاہم ان کے برعکس مصالحہ جات پورے سال میں کبھی بھی اگائی اور برآمد کی جا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں