حزب اللہ نے شامی عوام کے خلاف جنگ مسلط کررکھی ہے:جارج صبرا

لبنانی جنگجو تنظیم پر وسطی صوبے حمص میں قتل عام میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے عبوری صدر جارج صبرا نے کہا ہے کہ لبنان کی مسلح جنگجو تنظیم حزب اللہ نے شامی عوام کے خلاف جنگ مسلط کررکھی ہے اور اس کے جنگجو سرحد عبور کر کے ہمارے شہروں اور قصبوں میں داخل ہورہے ہیں۔

انھوں نے حزب اللہ کے بارے میں یہ دعویٰ سوموار کو استنبول میں شامی قومی اتحاد کا عبوری سربراہ نامزد ہونے کے بعد ایک نیوزکانفرنس میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حمص میں اس وقت جو کچھ رونما ہورہا ہے،یہ حزب اللہ کی شامی عوام کے خلاف علانیہ جنگ ہے۔

انھوں نے شام میں جاری قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پانچ سو افراد کو ہلاک کیا ہے۔ان کے بہ قول ان میں سے بعض کو بڑے بہیمانہ طریقے سے چاقوؤں سے قتل کیا گیا ہے۔یہ قتل عام ہے اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

مسٹر صبرا کا کہنا تھا کہ '' ہمیں خدشہ ہے،اس طرح کا طرز عمل جاری رہے گا۔ہم نے ان حقائق کو عالمی برادری کے سامنے بھی رکھا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو کریں''۔

جارج صبرا کو آج ہی شامی قومی اتحاد کے مستعفی سربراہ احمد معاذ الخطیب کی جگہ عبوری مدت کے لیے صدر نامزد کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ دس مئی کو نئے صدر کے انتخاب تک اس حیثیت میں فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے جارج صبرا نظریاتی طور پر کمیونسٹ ہیں۔انھیں شامی صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کی حکومت کی مخالفت کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور وہ آٹھ سال تک جیل میں قید رہے تھے۔انھیں شامی حزب اختلاف کے حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔وہ بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں