حسن نصراللہ اور خامنہ ای کے درمیان ایران میں خفیہ ملاقات

شامی دفاع کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ نے دو ہفتے قبل ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای سے خفیہ طور پر ملاقات کی ہے۔ ملاقات شام میں لبنان اور حزب اللہ کی مشترکہ دفاعی پالیسی پر عملدرآمد کا حصہ تھی، جس کے تحت ایران، شام میں اپوزیشن حملوں کا دفاع کرنے میں مدد کے بجائے اب جارحانہ پالیسی کی جانب پیش قدمی کرے گا۔

کویت سے شائع ہونے والے عرب روزنامے 'الرائے' نے ذرائع کے حوالے سے اپنی حالیہ اشاعت میں دعوی کیا ہے کہ حسن نصر اللہ نے پاسدران انقلاب کے القدس بریگیڈ کے سربراہ قاسم سلیمان سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہمناوں نے جن امور پر بات کی انہیں بہ قول 'الرای' اخبار خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ خفیہ ملاقاتیں اور مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں کہ جب شامی اپوزیشن کے لئے عرب اور مغربی دنیا کی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس دمشق کے حلیف ممالک بالخصوص ایران اور لبنان اس بڑھتی ہوئی امداد سے سخت پریشان ہیں۔

'الرائے' نے ذرائع کے حوالے سے ایران کی ان کوششوں کی جانب اشارہ کیا ہے کہ جو تہران ۔ دمشق کے درمیان طے پانے مشترکہ دفاعی معاہدے کو روبعمل لانے کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر اگر مغربی دنیا شامی اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کی مدد میں مزید آگے بڑھتا ہے تو بہ قول اخبار ایران یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گا شامی اپوزیشن مغربی ایجنڈے کو نافذ کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق ملاقات میں زیادہ وقت شامی صورتحال پر تبادلہ میں صرف کیا گیا۔ گفتگو کا محور ایران کی جانب سے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے پر رہا، اس مقصد کے لئے وقت پڑنے پر مندرجہ ذیل اقدام اٹھانے پر بھی غور کیا گیا جن میں نمایاں یہ ہیں:

- بشار الاسد کی سرکاری فوج کو ملکی دفاع میں مدد فراہمی کے لئے عراقی کوارڈی نیشن کے بعد ہزاروں جنگجو شام میں داخل کئے جائیں۔
۔ دفاعی حکمت عملی کو جارحانہ اقدامات سے تبدیل کیا جائے۔
۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر دینی مقامات کو مہندم کرنے کی مہم کے بعد شام میں ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
۔ شام کا تحفظ، اسرائیل کے خلاف جنگ کا مقدمہ سمجھا جائے۔

حسن نصر اللہ اور علی خامنہ ای کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے العربیہ نیوز چینل میں ایرانی امور کے ماہر نجاح محمد علی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری اور ایرانی عہدیداروں کے درمیان ملاقاتیں نہ تو نئی ہیں اور نہ کبھی ان میں توقف آیا۔ درمیانی رابطہ کاروں کے ذریعے ہونے والی یہ خفیہ ملاقاتیں معمول کی بات ہیں۔

نجاح محمد علی کے مطابق القدس بریگیڈ کے سربراہ قاسم سلیمانی اب بھی شام میں موجود ہیں، وہاں سے لبنان اور شام آنا جانا آسان ہے۔ ایران اور حزب اللہ شامی حکومت کو زمینی فوج کے علاوہ ہر طرح مدد فراہم کر رہے ہیں کیونکہ تہران اپنی لڑائی دوسروں کے کاندھے پر بندوق رکھ کر لڑنے کا عادی ہے۔ ایران، بشار الاسد کی حکومت سن 2014ء تک ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں