.

شام: القصیر میں جیش الحر سے لڑائی میں حزب اللہ کے 18 جنگجو ہلاک

لبنانی سرحد کے نزدیک واقع شامی دیہات میں جیش اور حزب کے درمیان خونریز جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مغربی شہر القصیر میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے اٹھارہ جنگجو شامی باغیوں اور سابق فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان کی اطلاع کے صدر بشارالاسد کی حامی لبنانی شیعہ تنظیم کے ایلیٹ جنگجو وسطی صوبے حمص کے مغربی شہر القصیر میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کی قیادت کررہے ہیں۔

انھوں نے ایک بیان میں بتایا کہ ''یہ کوئی ضروری نہیں شام میں لڑنے کے لیے جنگجو لبنان سے آرہے ہیں بلکہ سرحدی دیہات میں بھی اہل تشیع کی آبادی والے دیہات میں حزب اللہ کے حامی موجود ہیں۔مزید برآں ان دیہات میں زیادہ تر لبنانی رہ رہے ہیں''۔

شامی سکیورٹی فورسز نے اختتام ہفتہ پر لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع تزویراتی اہمیت کے حامل اس علاقے کے دیہات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔اس کے بعد جیش الحر کے بعض جنگجوؤں نے اس خدشے کے اظہار کیا تھا کہ القصیر پر بھی شامی حکومت دوبارہ کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔

آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق القصیر کے نواح میں واقع متعدد دیہات میں باغیوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان سوموار سے جھڑپیں جاری ہیں اور ان میں دوباغی جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔واضح رہے کہ شام کا یہ علاقہ لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور دمشق سے ساحل تک شاہراہ بھی اسی علاقے سے ہو کر گزرتی ہے۔

شامی صدر بشارالاسد نے اسی ہفتے لبنانی سیاست دانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سرحد کے نزدیک القصیر کے علاقے میں بڑی لڑائی جاری ہے اور ان کی فوج کسی بھی قیمت پر یہ جنگ جیتنے کی کوشش کرے گی۔انھوں نے کہا کہ شمالی صوبے ادلب میں بھی ہم اسی طرح کی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب اس علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی دراندازی پرشامی قومی اتحاد نے بھی خبردار کیا ہے اوراس نے لبنانی تنظیم پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے جنگجوؤں کو فوراً شامی علاقے سے نکال لے۔اتحاد کا کہنا تھا کہ لبنانی تنظیم کے شامی تنازعے میں ملوث ہونے کے لبنان اور پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔