.

عراقی سکیورٹی فورسز کا مظاہرین کے کیمپ پر دھاوا، 33 افراد ہلاک

اہل سنت کے احتجاجی کمیپ پر سکیورٹی فورسز کے حملے کے بعد مسلح تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز نے شمالی شہر کرکوک کے نزدیک اہل سنت کے ایک احتجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا ہے اور ان کی مظاہرین کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں تینتیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

عراق کے شمالی اور مغربی صوبوں میں اہل سنت دسمبر سے وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور انھوں نے کرکوک کے نواح میں واقع قصبے حوائجہ میں ایک احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا جس پر سکیورٹی فورسز نے منگل کی صبح حملہ کردیا۔

عراقی وزارت دفاع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے دفاع میں مظاہرین پر فائرنگ کی تھی اور ان پر پہلے مظاہرین کی جانب سے فائرنگ شروع ہوئی تھی جبکہ مظاہرین کے قائدین کا کہنا ہے کہ جب سکیورٹی فورسز نے صبح کیمپ کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کا آغاز کیا تو اس وقت مظاہرین غیر مسلح تھے۔

مظاہرین اور مقامی حکام نے جھڑپوں میں ہلاکتوں سے متعلق متضاد اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کیمپ میں لڑائی میں تین افسروں سمیت تئیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ تین فوجی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد چھبیس بتائی ہے۔ان میں چھے فوجی ہیں۔

تاہم ایک اور ذریعے کے مطابق لڑائی میں تینتیسن افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔العربیہ کے نامہ نگار نے جائے وقوعہ سے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں مسلح تصادم میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق کے اہل سنت نے دسمبر کے آخرمیں سابق وزیرخزانہ رافع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔اب ان کا احتجاج ایک مکمل تحریک کی شکل اختیار کرچکا ہے اور وہ وزیراعظم نوری المالکی سے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسداد دہشت گردی کے متنازعہ قانون کے خاتمے اور اہل سنت کے علاقوں میں بنیادی شہری سہولتیں مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔