.

لبنان میں شامی قیدی کی گلے میں رسّی ڈال کر تحقیر آمیز پریڈ

لبنانی عالم دین کی حزب اللہ کے خلاف لڑائی میں شامی باغیوں کی مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی کی آگ پڑوسی ملک لبنان میں پوری شدت کے ساتھ پہنچنا شروع ہوگئی ہے اور اب فرقہ واریت کا رنگ اختیار کرنے والی اس آگ کی تپش لبنان کے مختلف علاقوں اور شہروں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔

اس کا تازہ ثبوت ایک شامی علوی سے تحقیر آمیز سلوک کی ویڈیو کی شکل میں سامنے آیا ہے۔اس شامی قیدی کو لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں گلے میں رسّی ڈال کر گھمایا گیا ہے۔اس کی چھاتی پر ایک تحریر آویزاں کی گئی تھی جس میں لکھا تھا ''میں علوی شبیحہ کا رکن ہوں''۔

آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو میں شامی صدر بشارالاسد کے شیعہ علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو پکڑنے والے افراد اس کو ذلت آمیز میں گلے میں رسّی ڈالے شہر میں گھما پھرا رہے ہیں لیکن کوئی بھی بے عزتی اور تذلیل کے اس عمل کو روکنے کے لیے آگے نہیں بڑھتا اور پھر اس شامی کو آرمی انٹیلی جنس کے حوالے کردیا جاتا ہے۔

اس واقعہ سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ لبنانی حکومت شامی تنازعے پر ملک کے اندر پائی جانے والی سنی،شیعہ کشیدگی اور تقسیم پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے حالانکہ اس نے خود غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کررکھی ہے لیکن اس ملک کے شہری اپنے اپنے فرقے کے افراد کی حمایت کررہے ہیں۔

درایں اثناء لبنان کے دو معروف سنی علمائے دین نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا ہے کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار سنی باغیوں کی دامے، درمے، سخنے حمایت کریں۔

ایک عالم شیخ احمدالاسیر نے جنوبی شہر صیدا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ ہر مسلمان کی ذمے داری ہے کہ وہ اگر شام میں اپنے بھائیوں کی مدد اور ان کی مساجد اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے جا سکتا ہے تو وہاں وہ ضرور جائے''۔

انھوں نے شام کے وسطی صوبے حمص اور اس کے شہر القصیر کا حوالہ دیا جہاں مبینہ طور پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کی شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور لبنانی تنظیم کے اٹھارہ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔اس صوبے کے لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع دیہات میں باغی جنگجوؤں اور حزب اللہ کے ارکان آپس میں مدمقابل ہیں اور وہاں فائر کیے جانے والے راکٹ لبنانی علاقے میں جا کر گرے ہیں۔

حزب اللہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کی تردید کرتی چلی آرہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ باغی جنگجوؤں کے خلاف مقامی لوگ ہی نبردآزما ہیں لیکن حزب اللہ کے اس موقف کو شامی حزب اختلاف اور عالمی ادارے تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے اگلے روز ہی لبنان کی صورت حال کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں کہا تھا کہ شیعہ تنظیم حزب اللہ لبنانی حکومت کے کنٹرول سے ماورا کام کررہی ہے اور اس طرح وہ ریاست کی اپنے علاقے میں خودمختاری اور اتھارٹی کی مکمل صلاحیت کے ساتھ عمل داری کے قیام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔

انھوں نے ''قابل اعتبار'' رپورٹس کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ حزب اللہ اور لبنان کے دوسرے مسلح گروہ شامی بحران میں ملوث ہیں اور اس سے لبنان کی صورت حال میں ایک اور خطرناک عنصر کا اضافہ ہوگیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے شام کے جنوبی قصبے تل کلخ میں دسمبر 2012ء کے اوائل میں پیش آئَے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں شام میں باغی جنگجوؤں کی حمایت میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے آنے والے متعدد لبنانی نوجوان مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ لبنانی جماعتیں شام میں گذشتہ دو سال سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مسلح تحریک کے حوالے سے منقسم ہیں۔شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت بعض جماعتیں صدر بشارالاسد کی دامے ،درمے ،سخنے حمایت کررہی ہیں جبکہ اہل سنت کی جماعتیں ان کی مخالف ہیں اور سنی باغیوں کی حمایت کررہی ہیں۔اس بنیاد پر اہل سنت اور اہل تشیع کے مسلح نوجوانوں کے درمیان لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔