.

مصر:ججز کلب نے ججوں کی ریٹائرمنٹ سے متعلق بل کی مذمت کردی

شوریٰ کونسل کو عدلیہ سے متعلق قانون کی منظوری کا اختیار نہیں:احمد الزند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری ججوں کے کلب کے سربراہ احمد الزند نے ہزاروں ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ سے متعلق پارلیمان کے ایوان بالا میں پیش کردہ مجوزہ بل کی مذمت کردی ہے۔

انھوں نے سوموار کو قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوریٰ کونسل ( پارلیمان کے ایوان بالا) کو عدلیہ سے متعلق اس طرح کا قانون منظور کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے'' ججوں کو اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کی پالیسی کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی دھمکی دی ہے''۔

مصر کے صدر محمد مرسی کے مخالف سیاسی دھڑوں پر مشتمل گروپ نیشنل سالویشن فرنٹ نے ججوں کو اپنی حمایت کی پیش کش کی ہے اور منگل کو شوریٰ کونسل کے باہر مظاہرے کی اپیل کی ہے۔

شکست خوردہ سابق صدارتی امیدوار حمدین صباحی نے عدلیہ کے بارے میں پارلیمان میں پیش کردہ مسودۂ قانون کو ایک جرم قرار دیا ہے۔اس قانون کو اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزاد اور انصاف پارٹی نے متعارف کرایا تھا۔اگر ایوان بالا اس کی منظوری دے دیتا ہے تو اس کے تحت تین ہزار ججوں کو جبری ریٹائر کرکے گھروں کو بھیجا جاسکے گا کیونکہ اس میں ججوں کی ریٹامنٹ کی حد عمر ستر سال سے کم کرکے ساٹھ سال کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اس بل کے ناقدین ججوں اور حزب اختلاف کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے اخوان المسلمون کے ارکان کو عدلیہ میں بھرتی کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے اور اس سے صدر مرسی کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہوجائے گی۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اس بل کے ذریعے آزاد خیال ججوں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

یہ بل گذشتہ جمعہ کو اخوان المسلمون اور اس کی ہم نوا اسلامی جماعتوں کے ''عدلیہ کی تطہیر'' کے عنوان سے قاہرہ میں عدلیہ کے خلاف مظاہرے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔اس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ انھوں نے عدلیہ کی آزادی اور قانونی اداروں کے بدعنوان ارکان کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔اس دوران ان کی حکومت مخالفین کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

اخوان المسلمون اور صدر مرسی کی حامی دوسری جماعتوں کے عدلیہ مخالف اس پرتشدد مظاہرے کے ایک روز بعد وزیرانصاف احمد مکی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے لیے بل منظور کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔تاہم ابھی اس بل پر پارلیمان کے ایوان بالا میں رائے شماری نہیں ہوئی۔