شامی شہر حلب میں تاریخی جامع الاموی کا مینار شہید

اسدی فوج اور جنگجووں کے مینار کی شہادت کے بارے میں الزامات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شمالی شام کے اہم اور بڑے شہر میں تاریخی جامع الاموی کمپلیکس کا مینار بدھ کے روز شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق آبزرویٹری اور علاقے سے ارسال کردہ ریکارڈ شدہ ویڈیو ٹیپس میں شہید کردہ مینار کی تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے کارکن اس تاریخی ورثے کی تباہی کا الزام ایک دوسرے پر عاید کر رہے ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق جامع الاموی کے اردگرد گزشتہ چند ہفتے اور مہینوں سے شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ ان جھڑپوں کے ذریعے حکومت مخالف رضاکار اور شامی فوجی حلب کے قدیم شہر کے وسط میں واقع مسجد کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے۔

جامع الاموی کو اقوام متحدہ کی تعیلم، سائنس اور ثقافت سے متعلق ادارے "یونیسکو" نے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ اپوزیشن اور شامی فوج کے درمیان مسجد کے احاطے کے گرد ہونے والی جھڑپوں میں ہی اس تاریخی ورثے کا پرشکوہ گنبد اور مینار شہید ہوا۔

اپوزیشن کارکنوں کی 'یو ٹیوب' پر اپ لوڈ ویڈیو میں دیکھے جانے والے مناظر میں شہید مینار کے ٹکڑے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ عمارت کے دوسرے حصوں میں گولیوں اور باہمی لڑائی کے تباہ کن آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک منظر میں اپوزیشن جنگجو جامع الاموی کے اندر دکھائی دے رہے ہیں اور وہ بآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ مینار شامی فوج کے ٹینکوں کی گولا باری کی وجہ سے شہید ہوَئے۔

سیاہ ٹوپی پہنے اپوزیشن جنگجو ویڈیو میں کہتا دکھائی دیتا ہے کہ سرکاری ٹینکوں سے جامع الاموی پر شدید گولا باری کی جس میں مینار زمین بوس ہوا۔ انہوں نے اس الزام کی تردید کی یہ مینار میں ماہر نشانچی پوزیشیز لئے بیٹھے تھے۔ ہمیں معلوم تھا کہ سرکاری فوج مینار کی کافی دنوں سے مانیٹرنگ کر رہی تھی

شامی ٹی وی سکرین پر چلنے والے بریکنگ نیوز بار میں دعوی کیا گیا تھا کہ النصرہ فرنٹ کے دہشت گردوں نے جامع الاموی الکبیر کا مینار دھماکے سے اڑا دیا۔ رپورٹ کے مطابق اب اپوزیشن ارکان اس منظر کو فلم بند کر رہے ہیں تاکہ اس تباہی کا الزام شامی فوج پر دھرا جا سکے۔ جاری کردہ ویڈیو میں مینار گرتے وقت کی کوئی تصویر یا منظر محفوظ نہیں ہے۔

اپوزیشن جنگجووں نے امسال اٹھائیس فروری کو سرکاری فوج کے انخلا کے بعد اس تاریخی مسجد کا کنڑول حاصل کیا تھا۔ آٹھویں صدی میں تعمیر ہونے والی اس مسجد کو بارھویں صدی میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ سن 2012ء میں اس مسجد کو لڑائی سے شدید نقصان پہنچا تھا، جس میں آتشزدگی اور لوٹ مار نمایاں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں