لبنان کے سُنی نوجوانوں کا حزب اللہ کے خلاف جہاد کے لیے اندراج

شامی جیش الحُر نے جہاد کی اپیلیں مسترد کردیں،ہتھیار مہیا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کے سیکڑوں سنی نوجوانوں نے پڑوسی ملک شام میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف مسلح جہاد کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرادیا ہے۔

لبنان کے ایک شعلہ بیان سنی عالم دین احمد الاسیر نے منگل کو جنوبی شہر صیدا میں اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہوئے شام میں مسلم بھائیوں کی مدد اور ان کی مساجد اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے وہاں جا کر جہاد کی اپیل کی تھی۔ان کی اس اپیل پر بدھ کو صیدا میں سنی نوجوان جوق درجوق جہاد کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرارہے تھے۔

صیدا کی جامع مسجد بلال بن رباح میں جہادیوں کے ناموں کا اندراج کرنے والے ذمے داروں نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ''اب تک سیکڑوں افراد اپنے نام جہاد کے لیے لکھوا چکے ہِیں اور یہ تعداد ہزاروں تک پہنچنے کی توقع ہے''۔

شیخ الاسیر جامع بلال بن رباح کے خطیب ہیں۔انھوں نے اپنی تقریر میں حزب اللہ پر شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں سنی باغیوں کے خلاف لڑنے پر کڑی نکتہ چینی کی تھی اور اس لبنانی تنظیم سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کے لیے ''آزاد مزاحمتی بریگیڈز'' تشکیل دینے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

انھوں نے آج العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے شام میں سنی مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں حزب اللہ کے جاری کردار کے ردعمل میں جہاد کی اپیل کی تھی۔ان کے بہ قول ان کے سنی پیروکاروں کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ شامی حکومت اور حزب اللہ کے خلاف لڑائی میں حصہ لیں۔

شیخ احمد الاسیر نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو شام میں مداخلت سے روکنے میں ناکامی پر لبنانی حکومت کی بھی مذمت کی ہے ۔انھوں نے شام کے وسطی صوبے حمص اور اس کے شہر القصیر کا خاص طور پر حوالہ دیا جہاں مبینہ طور پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کی شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور گذشتہ روز ہی لبنانی تنظیم کے اٹھارہ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

حزب اللہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کی تردید کرتی چلی آرہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ باغی جنگجوؤں کے خلاف مقامی لوگ ہی نبردآزما ہیں لیکن حزب اللہ کے اس موقف کو شامی حزب اختلاف اور عالمی ادارے تسلیم نہیں کرنے کو تیار نہیں۔

لبنان کے شہر طرابلس سے تعلق رکھنے والے ایک اور سنی عالم دین شیخ سالم الرفاعی نے بھی شام میں حزب اللہ کے خلاف عام جہاد کی اپیل کی ہے۔العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے حزب اللہ کی جانب سے شام میں مداخلت کے جواز کو مسترد کردیا اور کہا کہ ''شام میں لبنانی اہل سنت بھی تو موجود ہیں جن کا دفاع کیا جانا چاہیے''۔

شیخ رفاعی نے پانچ ارکان پر مشتمل خفیہ مسلح گروپ تشکیل دینے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ ہم مسلح افراد کے پہلے گروپ کو شام کے شہر القصیر میں باغی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ حزب اللہ اور اسدی فوج کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجیں گے۔

لیکن دوسری جانب شام کے باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے لبنانی علماء کی جہاد کی اپیلوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اس وقت سرکاری فوج کے مقابلے میں ہتھیاروں کی مدد کی ضرورت ہے ،غیرملکی جنگجوؤں کی نہیں۔

جیش الحر کے سیاسی اور میڈیا کوآرڈی نیٹر لوئی مقداد نے ایک بیان میں کہا کہ '' جیش الحر کی سپریم فوجی کمان کا یہ سرکاری موقف ہے کہ ہم ان کا (لبنانیوں کا) شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن ہم شام میں جہاد کی کسی بھی اپیل کو مسترد کرتے ہیں۔ہم شام میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی کو بھی مسترد کرتے ہیں ،خواہ ان کا تعلق کہیں سے بھی ہے۔ہم یہ کہہ چکے ہیں ہمیں اس وقت ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے،افراد کا نہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں