رہائی کے بدلے فلسطینی اسیر سامر العیساوی نے بھوک ہڑتال ختم کر دی

معاہدہ وکیلوں کی موجودگی میں تحریر کیا جائے تاکہ اسرائیل چکما نہ دے سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی جیل میں گزشتہ آٹھ مہینوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدی سامر العیساوی نے اپنے خلاف تمام مقدمات کے خاتمے اور معاہدے کے آٹھ ماہ بعد اپنی رہائی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ العیساوی کا اصرار تھا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کو دو وکیلوں کی موجودگی میں ضابطہ تحریر میں لایا جائے تاکہ بعد میں اسرائیل اس سے دامن نہ چھڑا سکے۔

فلسطینی اسیر سامر العیساوی کو اسرائیلی قیدی گیلاد شالیت کے بدلے سیکڑوں دوسرے فلسطینیوں کے ہمراہ رہائی ملی تھی، تاہم اسرائیل نے 'وفا الاحرار' نامی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کر کے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا جس کے خلاف انہوں نے جیل میں طویل ترین احتجاجی بھوک ہڑتال کی۔

اسیر کی بہن شیرین الیعساوی کا کہنا تھا کہ رہائی کے سلسلے میں طے پانے والے حالیہ معاہدے کی اہم بات ان پر ماضی میں قائم کئے جانے والے تمام مقدمات کا خاتمہ اور طے شدہ مدت بعد رہائی شامل ہے۔

درایں اثنا جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی 'دشمن' کے خلاف خالی معدوں کی جنگ سے پر اسرائیلی کارپرداز خود بہت زیادہ پریشان ہیں۔ اسرائیلی سیاسی حلقے بھی اس پیش رفت پر چین بہ جبین ہیں۔

سامر العیساوی کے العیساوی کالونی میں اہل محلہ نے اپنے ساتھی کی رہائی کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کے ایک ہمسائے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسیر نے اتنی لمبی بھوک ہڑتال پر ثابت قدم رہ کر دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ کتنے صابر ہیں۔

ان کی چچی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سامر نے اپنی رہائی پر مسلسل اصرار کر کے بتا دیا کہ ایسا بڑے بڑے رہنما نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ اس وقت چار ہزار نو سو کے قریب فلسطینی، اسرائیلی جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں جن میں چودہ فلسطینی خواتین اور تین سو بچے ہیں۔

قیدیوں میں ایک ہزار دو سو بیمار ہیں جن میں ایک سو ستر کو فوری سرجری اور دوسرے ہنگامی علاج کی ضرورت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچیس مریض کینسر میں مبتلا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں