.

دمشق کے نواح میں شامی فوج اور باغیوں میں شدید جھڑپیں

داریا میں باغیوں کے مرکز کا محاصرہ، ہزاروں شہری مقید ہو کر رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔سرکاری فوج کو اپنی حامی شبیحہ ملیشیا کی مدد حاصل ہے اور وہ باغیوں کے خلاف ٹینکوں کا بھی استعمال کر رہی ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دمشق کے شمالی علاقے برزہ میں جمعہ کو باغیوں اور سرکاری فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی ہے اور شامی فوج نے وہاں ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے۔اس علاقے میں شامی صدر کے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ملیشیا بھی باغیوں کے خلاف فوج کے شانہ بشانہ نبرد آزما ہے۔

باغیوں اور اسدی فوج میں دمشق کے جنوبی علاقے میں بھی لڑائی ہورہی ہے اور اس علاقے کے بعض حصے گذشتہ کئی ماہ سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق دمشق کے علاقے الجبر دوبارہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ اس علاقے میں باغی جنگجوؤں نے اپنی متعدد محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔

درایں اثناء شام کے جنگی طیاروں نے دمشق کے مشرق میں واقع علاقے عین طرمہ اور جنوب مغرب میں واقع شہر درعا میں تازہ بمباری کی ہے۔شامی فوج گذشتہ کئی ماہ سے دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت کو کچلنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے لیکن وہ اب تک سخت جان جنگجوؤں کی بغاوت کو فرو کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

اسدی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔وہ متحارب فوجوں کی گولیوں کا نشانہ بھی بن رہے ہیں اور ان کے گھربار سرکاری فوج کی بمباری میں ملبے کا ڈھیر بن رہے ہیں۔

شامی فوج نے اس وقت داریا کے نزدیک واقع باغیوں کے مضبوط گڑھ معظمیۃالاسلام کا محاصرہ کررکھا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان خواتین اور بچوں سمیت مقید ہوکررہ گئے ہیں۔حکومت مخالف شامی نیٹ ورک کی اطلاع کے مطابق ''اس علاقے میں روزانہ ہی بمباری کی جارہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کم یاب ہوگئی ہیں''۔ادلب اور حلب سے بھی لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اور باغیوں نے ایک ائیرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔