.

مرسی حکومت اور ججوں میں عدالتی اصلاحات پر اختلافات کی خلیج وسیع

حکمران جماعت کے سنئیر رہ نما کا مجوزہ قانون کو جلد منظور کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی جزوی حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزاد اور انصاف پارٹی کے نائب سربراہ اعصام العریان کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے ایوان بالا کو فوری طور پر عدالتی اصلاحات سے متعلق قانون کی منظوری دینی چاہیے۔

انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کی گئی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ عدالتی اختیارات کے تعین سے متعلق نئے قانون کی منظوری میں تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔

انھوں نے اس مجوزہ قانون کے بارے میں ججز کلب کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا کو عدلیہ کی مشاورت سے اس قانون کو منظور کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

لیکن صدر محمد مرسی کی جانب سے متعارف کردہ مجوزہ اصلاحات سے ان کی حکومت اور ججوں کے درمیان اختلاف کی خلیج گہری ہوچکی ہے۔ان اصلاحات کے تحت ریٹائرمنٹ کی حد عمر ستر سال سے کم کر کے ساٹھ سال کردی جائے گی جس کے نتیجے میں تین ہزار سے زیادہ جج خود بخود ہی سبکدوش ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ مصر کی پارلیمان کے ایوان زیریں کو گذشتہ سال عدالت کے ایک حکم کے تحت تحلیل کردیا گیا تھا اور اس کے بعد ایوان بالا ہی کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔تاہم حزب اختلاف اس کے اس حق کے بارے میں کئی سوالات اٹھا چکی ہے۔

دوسری جانب سلفیوں کی جماعت النور نے بھی ان مجوزہ اصلاحات کو مسترد کردیا ہے۔جماعت کے ایک لیڈر عبداللہ بدران نے فیس بُک پر لکھا ہے کہ آئین کے تحت قانون میں ترمیم سے قبل عدلیہ سے وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔

درایں اثناء مصر کے نئے آئین کی تدوین کی ذمے دار کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات کو نئی پارلیمان کے انتخاب تک موخر کردیا جانا چاہیے۔

قاہرہ میں عدالت عالیہ کے باہر مٹھی بھر افراد نے مظاہرہ کیا اور انھوں نے عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی جبکہ اسلامی جماعتوں نے عدلیہ کی تطہیر کے عنوان سے مظاہرے نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ جمعہ کو قاہرہ میں عدلیہ مخالف مظاہرے کیے تھے جس کے بعد مذکورہ بل کو پارلیمان میں پیش کیا گیا تھا۔