.

حزب اللہ جنگجو ادلب اور حلب پہنچ گئے: کمانڈر جیش الحر

شامی فضائیہ کا پیش قدمی کرنے والے حکومت نواز جنگجوؤں کو مکمل 'کور'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جیش الحر کے کمانڈر کرنل فاتح حسون نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے لبنانی شعیہ تنظیم حزب اللہ کے جنگجو حمص کے اسٹرٹیجک شہر میں سرکاری فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے اب مزید دو صوبوں ادلب اور حلب میں داخل ہو چکے ہیں۔

مرکزی صوبے حمص کے محاذ پر جیش الحر کے کمانڈر اور ڈپٹی چیف آف سٹاف کرنل حسون نے بتایا کہ شامی فوج حزب اللہ کے جنگجوؤں کی موجودگی کو چھپانے کی خاطر فوج بعض علاقوں پر بمباری کر رہی ہے۔ کرنل حسون کے بہ قول شامی حکومت اس نئی فوجی حکمت عملی کو استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو حمص کے اہم قصبے القصیر پر کنڑول ملا۔

حزب اللہ کے جنگجوؤں اور باغی فورس کے درمیان القصیر کے علاقے میں تصادم کے دوران شامی حکومت لبنانی شیعہ جنگجوؤں کو فضائی حملوں کے ذریعے کور فراہم کرتی رہی ہے جس کی مدد سے حزب اللہ جنگجو لبنانی سرحد پر واقع اہم قصبے کی طرف پیش قدمی کو تیار ہوئے۔ القصیر قصبے میں شامی باغیوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں میں شدید لڑائی ہو چکی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے گزشتہ روز بتایا کہ حزب اللہ کے جنگجو بشار الاسد مخالف باغیوں کے خلاف القصیر میں جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے حوالے سے بتایا کہ القصیر میں حزب اللہ کی ایلیٹ فورس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ القصیر لڑائی میں شامل حزب اللہ کے ارکان لبنان سے نہیں بلکہ شامی علاقے میں واقع شیعہ دیہات میں رہنے والے لبنانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ لبنانی، شامی علاقوں میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ اس صورتحال پر باغیوں کو خدشہ ہے کہ القصیر قصبہ شامی فوج کے زیر نگین نہ آ جائے۔ القصیر، دمشق کو شامی ساحلی پٹی سے ملانے والی شاہراہ پر واقع اہم قصبہ ہے۔