.

قاہرہ میں صدارتی محل کے نزدیک جھڑپیں، 16 افراد زخمی

سیاہ نقاب پوشوں کا مشرقی صوبے میں حکمراں جماعت کے دفاتر پرحملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جمعہ کی رات پولیس اور مطاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں سولہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب پتھر پھینکے جبکہ پولیس نے انھیں صدارتی محل کی جانب جانے سے روکنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔مشتعل مظاہرین نے اس دوران پولیس کی ایک کار کو بھی نذرآتش کردیا۔

صدر محمد مرسی کے مخالفین بیسیوں مظاہرین نے پہلے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں احتجاج کیا۔ان میں نقاب پوش بلیک بلاک گروپ سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور فٹ بال کے شائقین المعروف الٹراس بھی شامل تھے۔انھوں نے المرج میٹرو اسٹیشن سے صدارتی محل کی جانب مارچ کیا اور جب وہ اس کے نزدیک پہنچے تو ان کی وہاں مامور پولیس اہلکاروں سے جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

واضح رہے کہ بلیک بلاک گروپ صدر مرسی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کا شدید مخالف ہے۔''ناانصافی کے خلاف افراتفری''اس کا نعرہ ہے۔یہ گروپ جنوری میں منظرعام پر آیا تھا اور اس نے قاہرہ ،اسکندریہ اور سویز میں صدر مرسی کے خلاف مظاہروں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے کے روز اس گروپ سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو ملک میں بلووں کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کے بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔

جمعہ کو پیش آئے ایک اور واقعہ میں سیاہ نقاب پوش گروپ نے صوبہ الشرقیہ میں اخوان کی آزادی اور انصاف پارٹی کے صدر دفاتر پر پیٹرول بم سے حملہ کیا ہے اور انھوں نے دفتر کی عمارت کے بیرونی حصے کو نذر آتش کر دیا ہے۔ وہ صدر مرسی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔