.

مقدس جگہوں پر خواتین کو الگ تھلگ نہ کیا جائے: اسرائیلی عدالت

مغربی دیوار پر مردوں کی اجارہ داری ختم کی جائے، لبرل یہودی خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ خواتین کو اس جگہ عبادات کی ادائی سے نہ روکیں جو بہ قول قدامت پسند یہودی مردوں کے لئے مخصوص ہیں۔

لبرل یہودی خواتین اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مقدس مغربی دیوار کے ساتھ قدامت پسند یہودیوں کی عبادت کرنے کی اجارہ داری ختم کرائی جائے تاکہ وہاں پر عبایہ پہن کر یہودی خواتین بھی مردوں کے ساتھ عبادت کر سکیں۔

مغربی دیوار، یروشلم میں واقع مقدس مقام ہے جہاں یہودی اپنی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت قدامت پسند یہودیوں نے اسے خواتین اور مردوں کے الگ الگ خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے، جسے لبرل یہودی خواتین ختم کرانے کی کوشش میں ہیں۔

قدامت پسند یہودیوں کے مذہبی پیشوا [ربی] اور دینی اہمیت کے مقامات کے متولی مرد اور زن کے ایک ہی جگہ نماز ادائی کے خلاف ہیں۔
گزشتہ روز یروشلم کی ایک عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہودی خواتین کی نماز سے دوسروں کے سکون کو خطرہ نہیں اس لئے خواتین کے لئے الگ نماز کی جگہ مقرر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مغربی دیوار کے پاس مرد و خواتین کی مشترکہ عبادت گاہ تعمیر کے منصوبے کی ابتدائی منظوری دی تھی۔