.

"فوجیوں کے قاتل 24 گھنٹے میں عراقی حکومت کے حوالے کئے جائیں"

قبائلی سرداروں کا نوری المالکی پر ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی شہر الانبار کے پولیس چیف نے ہفتے کے روز احتجاجی دھرنا دینے والے مظاہرین کو چوبیس گھنٹے کی مہلت دی ہے کہ وہ پانچ فوجیوں کے قاتلوں کو حکام کے حوالے کر دیں ورنہ ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

سیکیورٹی اور میڈیکل ذرائع کے بہ قول ہفتے کے روز عراقی فوج سے تعلق رکھنے والے پانچ انٹلیجنس جبکہ پانچ بیداری فورس کے اہلکارعراق کے اندر مختلف حملوں میں مارے گئے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے قبائلی سرداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فتنہ پردازی رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں بدامنی کا راج ہے، وہاں سے امن کی بحالی تک فوج واپس نہیں بلوائی جائے گی۔

ادھر نوری المالکی نے بغداد میں اسلامی ڈائیلاگ کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے علاقوں میں فرقہ واریت کی سلگتی چنگاری ایک مرتبہ پھر عراق کے تن بدن میں آگ لگانے آ پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کا یہ عفریت ایک منظم سازش کے تحت عراق میں پھیلایا جا رہا ہے۔

درایں اثنا سپریم اسلامک کونسل کے سربراہ عمار الحکیم کا کہنا تھا کہ مملکت اور فوج کے خلاف مورچہ بند ہونے والوں کے خلاف فیصلہ کن طریقے سے لڑنا ہو گا۔

اس کے ساتھ ساتھ عراقی وزیر اعظم کے مقرب خاص اور بیداری تحریک 'الصحوہ' کے سربراہ وسام الحردان نے الانبار میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پانچ فوجی انٹلیجنس اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو سن 2006ء والی صورتحال ایک مرتبہ پھر پیدا ہو سکتی ہے۔

سرکاری ٹی وی 'العراقیہ' کے مطابق الحردان نے فرقہ وارانہ صورتحال پیدا ہونے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "صحوہ فورس سن 2006ء والے حالات پیدا کر دے گی۔" انہوں نے کہا الصحوہ احتجاجی دھرنا دینے والا کو چوبیس گھنٹے کا نوٹس دے گی کہ فوجی اہلکار کے قاتل متعلقہ حکام کے حوالے کر دیئے جائیں ورنہ فورس ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گی۔

ان دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے سنی قبائل کے ایک سردار علی الحاتم نے العربیہ کو بتایا کہ ہمارے احتجاجی دھرنے کو طاقت کے زور پر منتشر کرنے کی کوشش کا جواب بھی سخت آئے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ احتجاجی دھرنا دینے والوں کا فوجیوں کے قتل سے کوئی تعلق نہیں اور یہ واقعہ بھی الانبار سے دور ہوا ہے۔ علی الحاتم نے وزیر اعظم نوری المالکی پر الزام عاید کیا کہ مؤخر الذکر ملک میں فرقہ واریت کا نیا باب کھولنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے کی تمام تر ذمہ داری نوری المالکی پر عاید ہو گی۔

ہفتے کے روز مسلح افواج پر کئے جانے والے حملے حالیہ چند دنوں میں سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہیں۔ ان کا آغاز مغربی کرکوک سے 55 کلومیٹر الحویجہ میں نوری المالکی حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنے پر سرکاری فوج کے حملے کے بعد ہوا۔ گزشتہ منگل کو ہونے والی اس کارروائی میں پچاس افراد جاں بحق ہوئے۔