.

شامی فوج کو کیمیائی ہتھیارچلانے کا حکم دیا گیا تھا:منحرف جنرل

کیمیائی ہتھیاروں کو جیش الحر کے خلاف استعمال کے بجائے دفن کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج کے ایک منحرف جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ ''شامی حکومت نے منتخب علاقوں میں لڑائی کے دوران جیش الحر کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے''۔

شامی فوج کی کیمیائی ہتھیار برانچ کے سابق سربراہ جنرل زاہرالساکت نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھیں جنوب مغربی علاقے میں جیش الحر کے خلاف لڑائی کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انھوں نے ان احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے انھوں نے باغیوں کے خلاف بے ضرر پانی کا استعمال کیا تھا۔

منحرف جنرل نے بتایا کہ ''مجھے جیش الحر کے خلاف غاروں اور سرنگوں میں زہریلے کیمیکلز استعمال کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن میں نے تمام کیمکل میں پانی ملا دیا اور اس کے بجائے بے ضرر پانی کا استعمال کیا تھا''۔

ان کے بہ قول ان کے منحرف ہونے تک جیش الحر کے خلاف کوئی کیمیکل ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ''تمام کیمیائی ہتھیار دفن کردیے گئے تھے اور ان ہتھیاروں کی درست جگہ کی نشاندہی بھی کرسکتا ہوں''۔

قبل ازیں امریکا اور برطانیہ نے شامی حکومت پر باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور یہ الزام شامی دارالحکومت کے نواحی علاقے سے اسمگل شدہ زمین کے نمونوں کے تجزیے کے بعد عاید کیا گیا تھا۔ان نمونوں میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے اجزاء پائے گئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ جمعہ کوایک بیان کہا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کھیل کا پانسا پلٹنے والا ہوگا۔گذشتہ ہفتے کے دوران امریکا،اسرائیل اور برطانیہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے اپنے بیانات میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اشارے دیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے ایک مرتبہ پھر شامی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ عالمی ادارے کے مشن کو ملک میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تقحیقات کے لیے مشتبہ جگہوں تک رسائی کی اجازت دے۔

درایں اثناء روس کے نائب وزیرخارجہ میخائل بوگڈانوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے غیرملکی فوجی مداخلت کا موجب نہیں بننے چاہیئں۔بیروت کے دورے کے موقع پر انھوں نے کہا کہ ''اگر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ٹھوس اور سنجیدہ ثبوت ہے تو اس کو فوری طور پر سامنے لایا جانا چاہیے اور چھپایا نہیں جانا چاہیے''۔