.

مصر:سابق صدر حسنی مبارک کی رہائی کے لیے درخواست مسترد

عدالت کا 15 روز کے لیے بدعنوانیوں کے الزامات پر زیرِتفتیش رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کی رہائی کے لیے دائرکردہ درخواست مسترد کردی ہے اور قرار دیا ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات تک انھیں جیل سے رہا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے مڈل ایسٹ نیوزایجنسی ( مینا) کی اطلاع کے مطابق قاہرہ کی فوجداری عدالت نے اتوار کو سابق صدر کو بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لیے مزید پندرہ روز تک جیل میں قید رکھنے کا حکم دیا ہے۔تاہم وہ عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

حسنی مبارک مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں زیادہ سے زیادہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور قانون کے تحت انھیں رہا کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے خلاف دیگر الزامات کے تحت قائم کیے گَئے مقدمات کی تفتیش اور سماعت جاری ہے جس کی بنا پر انھیں رہا نہیں کیا جاسکتا۔

حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی گیارہ مئی کو دوبارہ سماعت شروع ہوگی۔ انھیں اور ان کے وزیرداخلہ حبیب العادلی کو جون 2012ء میں قاہرہ کی ایک عدالت نے مظاہرین پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کے الزام میں قائم کیے گئے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

انھوں نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور مصر کی اعلیٰ اپیل کورٹ نے ان کی اور ان کے وزیرداخلہ اور استغاثہ کی جانب سے اس کیس کے دوبارہ ٹرائل کے لیے اپیلیں منظور کر لی تھیں۔حسنی مبارک کے خلاف 25جنوری سے 11فروری 2011ء تک پُرتشدد عوامی احتجاجی تحریک کے دوران آٹھ سو چھیالیس افراد مارے گئے تھے اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔سابق صدر کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے علاوہ بدعنوانیوں کے الزامات میں بھی مقدمات چلائے جارہے ہیں۔