.

مصرکے صدرمرسی مجوزہ عدالتی اصلاحات پر سمجھوتے کو تیار

ایوان صدر اورسپریم جوڈیشیل کونسل نئے قانون کا مسودہ وضع کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر محمد مرسی اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان پر مشتمل کونسل نے ملک میں جاری عدالتی بحران کے خاتمے کے لیے مفاہمانہ اصلاحات سے اتفاق کیا ہے۔

ایوان صدر اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان اتوار کو تین گھنٹے تک بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں جس میں انھوں نے ملک میں عدالتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے ایک کانفرنس بلانے سے اتفاق کیا ہے اور اس میں دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول اصلاحات وضع کی جائیں گی۔

صدارتی ترجمان نے مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر مرسی نے جسٹس کانفرنس کی تجویز کو سراہا ہے اور اس کی تیاریوں کے سلسلہ میں پہلا اجلاس منگل کو ایوان صدر میں ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ صدر مرسی اس کانفرنس میں منظور کردہ مجوزہ قوانین سے متعلق تمام سفارشات کو اختیار کریں گے اور پھر انھیں حتمی منظوری کے لیے مشاورتی کونسل (پارلیمان کے ایوان بالا) میں پیش کیا جائے گا۔

سپریم جوڈیشیل کونسل کے صدر محمدممتاز نے اس بیان کی تائید کی ہے۔ایک عدالتی ذریعے نے بتایا ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات سے متعلق اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کے متعارف کردہ قانون کو منجمد کردیا جائے گا اور اس کی جگہ صدر مرسی اور جوڈیشیل کونسل کے درمیان اتفاق رائے سے عدالتی اصلاحات سے متعلق قانون میں اصلاحات کا نیا مسودہ پیش کیا جائے گا۔

اخوان المسلمون اور اس کی ہم نوا جماعتوں نے گذشتہ ہفتے عدالتی اصلاحات کا مجوزہ قانون پارلیمان کے ایوان بالا میں پیش کیا تھا جس کے تحت ریٹائرمنٹ کی حد عمر ستر سال سے کم کر کے ساٹھ سال کردی جائے گی جس کے نتیجے میں تین ہزار سے زیادہ جج خود بخود ہی سبکدوش ہوجائیں گے۔

مصر کی پارلیمان کے ایوان زیریں کو گذشتہ سال عدالت کے ایک حکم کے تحت تحلیل کردیا گیا تھا اور اس کے بعد ایوان بالا ہی کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔تاہم حزب اختلاف اس کے اس حق کے بارے میں کئی سوالات اٹھا چکی ہے۔

حزب اختلاف کی لبرل اور سیکولر جماعتوں کے علاوہ سلفیوں کی حزب النور ان مجوزہ اصلاحات کو مسترد کر چکی ہے اور ان کا موقف ہے کہ آئین کے تحت قانون میں ترمیم سے قبل عدلیہ سے وسیع تر مشاورت کی ضروری ہے۔

مصر کی جزوی حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی پارلیمان مشاورتی کونسل سے عدالتی اصلاحات سے متعلق قانون کی فوری طور پر منظور کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔جماعت کے رہ نما اعصام العریان نے اگلے روز ایک بیان میں مجوزہ قانون کے بارے میں ججز کلب کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا کو عدلیہ کی مشاورت سے اس قانون کو منظور کرنے کا اختیار حاصل ہے۔