شامی وزیر اعظم وائل الحلقی بم دھماکے میں بال بال بچ گئے

وسطی دمشق دھماکے میں الحلقی کا محافظ اور ڈرائیور ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے وزیراعظم وائل الحلقی پیر کے روز دارلحکومت میں اپنے قافلے پر کئے جانے والے بم حملے میں بال بال بچ گئے۔

شدید نوعیت کے دھماکے کے بعد ان کی سلامتی سے متعلق مختلف افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جن کا منہ بند کرنے کے لئے شام کے سرکاری نیوز چینل 'الاخباریہ' نے اپنے خبرنامے میں دھماکے کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ایک ویڈیو نشر کی جس میں وائل الحلقی کو کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

ویڈیو میں الحلقی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور بعد میں انہوں نے شامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کابینہ کے جاری اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں ذرا بھی اس بات کا تاثر نہیں دیا کہ وہ اپنے قافلے پر ہونے والے بم دھماکے میں بال بال بچے ہیں۔ دمشق کے مقامی وقت صبح نو بجے الحلقی کے قافلے پر اس وقت بم حملہ کیا گیا جب ان کا قافلہ دمشق کے وسطی علاقے المزہ سے گزر رہا تھا۔ اس حملے میں ان کا ذاتی محافظ اور ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔

ادھر شامی انقلاب کونسل کے دیب الدمشقی نے کہا ہے کہ اس حملے میں ظاہر کی جانے والی تعداد سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے چند لمحے بعد ہی شامی وزیر اطلاعات کے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق الحلقی کے قافلے پر حملہ المزہ پبلک پارک اور سکول کے قریب ہوا۔ جس علاقے میں بم دھماکا کیا گیا وہاں سیکیورٹی انتہائی سخت رکھی جاتی ہے اور اس علاقے میں سفارتخانے، حکومتی اور انٹلیجنس اداروں کے دفاتر اور اہم سیاسی شخصیات کی رہائش گاہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں