.

دمشق میں زوردار بم دھماکا، 14 افراد ہلاک جبکہ 70 زخمی

وزیر اعظم پر ناکام قاتلانہ حملے کے ایک دن بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتوں کے دوران دارالحکومت دمشق میں سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے اس سلسلے کی ایک کڑی میں منگل کے روز دمشق کے مرکز میں ایک بم دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ 70 افراد زخمی ہو گئے۔

سرکاری ٹیلی وژن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج [منگل] کے روز ہونے والا یہ کار بم دھماکہ تھا۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ کا ایک بیان نشر کیا گیا جس کے مطابق، ’’دہشت گردوں کی اس بزدلانہ کارروائی میں تقریباً 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں‘‘۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری کی حمایت اور مالی تعاون سے سرگرم دہشت گردوں نے دمشق کے تاریخی تجارتی مرکز میں شہریوں کا سفاکانہ قتل کیا ہے۔

جائے حادثہ پر موجود ایک شخص نے کہا کہ عوام کی کیا غلطی ہے؟ انہیں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اس نے اس دھماکے کا شکار ہونے والوں کی لاشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ لوگ اس آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں؟

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے مرنے والوں کی تعداد 14 بتائی ہے۔ ان میں نو عام شہری اور سلامتی کے اداروں کے پانچ اہلکار شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے وزارت داخلہ کی پرانی عمارت کو نشانہ بنایا اور یہ دھماکہ عمارت کے پچھلے دروازے پر ہوا۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق چند افراد شدید زخمی ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ آج ہونے والے دھماکے سے ایک دن پہلے دمشق ہی میں ایک شامی وزیراعظم وائل الحلقی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ ان کا ڈرائیور اور ذاتی محافظ ہلاک ہو گئے تھے۔ الحلقی کو اگست 2012ء میں اس وقت وزیر اعظم بنایا گیا تھا، جب ان کے پیش رو ریاض حجاب بشار الاسد کے مخالفین سے جا ملے تھے۔

جولائی 2012ء میں ایک خود کش بم حملے میں شامی وزیر دفاع اور ان کے نائب ہلاک جبکہ وزیر داخلہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ دمشق میں گزشتہ ہفتوں کے دوران کئی مرتبہ بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل 9 اپریل کو ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔