.

العربیہ نے حزب اللہ مخالف''نفسیاتی جنگ'' شروع کررکھی ہے:حسن نصراللہ

ٹی وی چینلز پرشیعہ جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی مبالغہ آمیز تعداد بیان کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ العربیہ ٹی وی چینل نے ان کی تنظیم کے خلاف "نفسیاتی جنگ" شروع کررکھی ہے۔

شیخ حسن نصراللہ نے براہ راست ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ "کل، العربیہ ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے شام میں حزب اللہ کے 30 شہداء گرنے کی اطلاع دی تھی لیکن اس نے علم کے بغیر یہ بات کی ہے، یہ پاگل پن ہےاور نفسیاتی جنگ کے حصے کے طور پراس طرح کی خبریں اڑائی جارہی ہیں''۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''شام میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے العربیہ اور دیگر علاقائی اسٹیشنز مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔ان تمام چینلوں نے ان کی تنظیم کے کوئی ایک ہزار شہید رپورٹ کیے ہیں۔اگر اس تعداد کو نصف بھی شمار کیا جائے تو ہم لبنان ایسے چھوٹے ملک میں کس طرح ان ہلاکتوں کو چھپا سکتے ہیں''۔

حسن نصراللہ نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں شام میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ''جب کبھی کوئی شہید گرتا ہے،اس کے خاندان کو مطلع کیا جاتا ہے اور اس سے اگلے روز اس کا جنازہ ہوتا ہے۔تمام شہداء کے جنازے ہوں گے ،اس کا اعلان پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ہمیں اپنے شہداء کے بارے میں کوئی شرمساری نہیں ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے منگل کو اپنی نشری تقریر میں کہا تھا کہ خطے میں شام کے دوست موجود ہیں اور وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کو گرنے نہیں دیں گے۔ انھوں نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے سنی مسلمانوں کی مسلح بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا ،اسرائیل اور تکفیری گروپوں کے ہاتھوں شام کو گرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی حزب اختلاف کے جنگجو صدربشارالاسد کی حکومت کو عسکری طور پر ختم نہیں کرسکتے۔یہ جنگ بہت طویل ہوگی۔انھوں نے کہا کہ اگر صورت حال خراب ہوتی ہے تو علاقائی ریاستیں اور مزاحمتی تحریکیں شام میں برسرزمین مداخلت پر مجبور ہوں گی۔ان کے بہ قول ''مذاکرات ہی بحران کے حل کا واحد راستہ تھا مگر شامی حزب اختلاف ڈائِیلاگ سے انکار کرتی چلی آرہی ہے۔ جو کوئی بھی شامی بحران کو حل کرنا چاہتا ہے تو سیاسی حل ہی اس کا واحد راستہ ہے''۔