.

شامی اپوزیشن عسکری طور پر بشار الاسد حکومت ختم نہیں کر سکتی: نصر اللہ

حزب اللہ جنگجوؤں کا شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے جنگجو شام میں بشار الاسد فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ شامی بحران کے آغاز کے بعد حزب اللہ کے جنگجوؤں کی ملک میں موجودگی کا یہ پہلا علانیہ اعتراف ہے۔

حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری نے اپنے براڈکاسٹ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ہم اپنے شہدا کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھیوں میں جو جس محاذ پر بھی 'جام شہادت' نوش کرتا ہے، ہم اس پرعلانیہ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم پر الزام ہے کہ حزب اللہ اپنے جنگجوؤں کے ساتھ دھوکا کر رہی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عرب اور مقامی نیوز چینلز نے شام میں حزب اللہ کے 'شہداء' کی تعداد بیان کرنے میں نیلام گھر کی بولی جیسا انداز اپنا رکھا ہے۔ حسن نصر اللہ نے 'العربیہ' نیوز چینل کو اپنی تقریر میں خصوصی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس چینل نے حزب اللہ کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کر رکھی ہے۔

حسن نصر اللہ کے شامی اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ عسکری طریقے سے شامی حکومت کو کبھی نہیں گرا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ تم [حزب مخالف] طویل لڑائی کے بعد بھی شامی حکومت کو گرا نہیں سکتے۔" ہم اپنے کامریڈز کو تمام معاملات عسکری طور پر حل کرنے کی ترغیب نہیں دیتے۔

بہ قول حسن نصر اللہ شام میں پیدا کردہ صورتحال کا مقصد صرف اسے مزاحمت کے محور سے باہر اور عرب ۔ اسرائیل توازن کا خاتمہ نہیں اور نہ اس کا مقصد کسی بھی قیمت پر اقتدار حاصل کرنا ہے بلکہ اس کا اصل مقصد شامی عوام ، حکومت، معاشرے اور فوج کی تباہی ہے تاکہ یہاں مرکزی حکومت قائم ہو سکے اور نہ ہی یہاں کوئی مضبوط فوج رہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ شام کو علاقائی توازن سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ شامی تباہی کا مقصد اس کے تمام حکومتی اداروں جن میں انٹلیجنس ادارے سرفہرست ہیں، کو تتر بتر کرنا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو روایتی دھکمیاں دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے معرکے میں ہم ہی کامیاب ہوں گے، اس لئے تمام لوگ غلط اندازے لگانے سے باز رہیں۔

گزشتہ دنوں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے جاسوسی طیارے کو مار گرانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "اسرائیل کے پاس جدید ریڈارز ہیں تاہم اس کے باوجود وہ ہمارے ڈرون طیارے کا مقام پرواز اور اس کے ٹریک کا اندازہ نہیں لگا سکے۔"

مسئلہ فلسطین کے بارے میں اپنے خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اس ایشو کی بساط لپیٹے جانے کے حقیقی خطرات موجود ہیں۔ شام کی صورتحال کا اثر لامحالہ لبنان اور عراق کے علاوہ پورے علاقے کی سیاست پر پڑتا ہے۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ بعض بڑے ملکوں کی جانب سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام دراصل اس لئے لگایا جا رہا ہے کہ شام میں غیر ملکی مداخلت کی راہ ہموار کی جائے۔

اپنے خطاب میں لبنان کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حسن نصر اللہ نے کہا بیروت حکومت شامی سرحد پر واقع اپنے قصبات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے۔ شام کی مسلح اپوزیشن سرحد پر واقع لبنانی دیہات کے لئے ایک خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ چند ہفتوں سے لبنان کے ان سرحدی دیہات پر شامی اپوزیشن کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے سرحدی دیہات کا دفاع کسی کے فیصلے کا منتظر ہے۔ یہ لوگ ان دیہات پر حملوں کی ذمہ داری لبنان کے داخلی گروہوں پر عائد کر کے اپنی ذمہ داری سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔