.

شامی حزب اختلاف نے حزب اللہ کی دھمکیوں کی مذمت کردی

حسن نصراللہ کا شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے عزم کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد (ایس این سی) نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی اپنے ملک میں جاری خانہ جنگی میں مداخلت پر انتباہ کیا ہے اور تنظیم کے رہ نما شیخ حسن نصراللہ کے دھمکی آمیزبیانات کی مذمت کی ہے۔

ایس این سی نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شامی اور لبنانی عوام کو امید ہے کہ حزب اللہ کی قیادت حمص اور دمشق میں اپنے حملوں کو بند کردے گی اور صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرے گی''۔

بیان میں شیخ حسن نصراللہ کی گذشتہ روز کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ''انھوں نے دھمکیوں کے سوا کچھ نہیں کہا اور پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کا انتباہ کیا ہے۔یہ شامی امور میں مداخلت کا ایک قسم کا اعتراف بھی ہے''۔

منگل کے روزحسن نصراللہ نے اپنی نشری تقریر میں کہا تھا کہ خطے میں شام کے دوست موجود ہیں اور وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرنے نہیں دیں گے۔ انھوں نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے سنی مسلمانوں کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا ،اسرائیل اور تکفیری گروپوں کے ہاتھوں شام کو گرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

حال ہی میں یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حزب اللہ کے جنگجو لبنان کی سرحد کے قریب واقع شام کے شیعہ آبادی والے دیہات میں باغیوں کے خلاف اسد فورسز کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں. تاہم حسن نصراللہ نے تقریر میں اپنے گروپ کی جانب سے شامی صدر کی حکومت کو بچانے کے لیے زیادہ واضح لفظوں میں بات کی ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ شامی حزب اختلاف کے جنگجو صدراسد کی حکومت کو عسکری طور پر ختم نہیں کرسکتے۔مذاکرات ہی اس کا واحد راستہ تھا مگر شامی حزب اختلاف ڈائِیلاگ سے انکار کرتی چلی آرہی ہے جو کوئی بھی شامی بحران کو حل کرنا چاہتا ہے تو ایک سیاسی حل ہی اس کا واحد راستہ ہے۔

حسن نصراللہ نے دعویٰ کیا کہ ''شامی باغیوں کی بڑی تعداد لبنانیوں کی آبادی والے دیہات پر قبضے کی تیاری کررہی تھی۔اس صورت حال میں شامی فوج اور حکومت کی حامی ملیشیا کو ضروری امداد کی فراہمی ایک معمول کی بات کی تھی''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''لبنان کی ریاست شام کی سرحد کے نزدیک واقع اپنے شہروں اور قصبوں کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ان کے دفاع کے لیے کسی جانب سے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم ان دیہات اور قصبوں کے مکینوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے۔