.

عراق میں تشدد کا سلسلہ جاری ،بم دھماکوں میں 15افراد ہلاک

فلوجہ میں حکومت کی حامی سنی ملیشیا کے ارکان پر خودکش بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں پندرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق مغربی شہر فلوجہ میں بدھ کو ایک بمبار نے حکومت کے حامی سنی جنگجوؤں کے ایک گروپ کے درمیان میں خود کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں چھے افراد مارے گئے ہیں۔حکومت کی ملیشیا کے ارکان اس وقت تنخواہیں لینے کے لیے جمع تھے۔

بغداد سے 180 کلومیٹر شمال میں واقع قصبے بیجی میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے چار پولیس اہلکاروں ہلاک ہوئے ہیں۔بغداد کے شمال مشرق میں واقع شیعہ آبادی والے علاقے میں کار بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے۔

پولیس اور ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ مغربی شہر رمادی کے شمال میں ایک اور کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ماضی میں عراق کی القاعدہ کی شاخ ریاست اسلامی پر ان بم حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں القاعدہ کی شاخ شام میں جاری کشیدگی سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور وہ شام میں موجود اپنے ہم خیال جنگجوؤں کے لیے عراقی قبائلیوں سے رقوم اور اسلحہ بھی اکٹھا کررہی ہے۔

پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد سے عراق میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس فرقہ وارانہ تناؤ کی وجہ سے بھی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہواہے جبکہ اس وقت اہل سنت شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوِئے ہیں۔

عراق میں القاعدہ (ریاست اسلامی) کا 2007ء سے قبل ملک کے سنی آبادی والے علاقوں پر موثر کنٹرول تھا لیکن امریکی فوج اور عراقی حکومت نے سنی جنگجوؤں اور قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر القاعدہ کی کمر توڑ دی تھی۔تاہم اس کے باوجود یہ جنگجو تنظیم اب بھی بڑے حملے کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔اس جنگجو تنظیم کے علاوہ سابق حکمران اور اب کالعدم بعث پارٹی کے بچے کھچے وابستگان پر بھی دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔