.

عرب لیگ فلسطینی،اسرائیلی تنازعے پر رعایتیں دینے کو تیار

عرب وزرائے خارجہ کا جان کیری سے مشرق وسطیٰ امن عمل کی بحالی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازعے کے تصفیے کے لیے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور وہ اپنے 2002ء کے امن منصوبے پر نظرثانی کو بھی تیار ہیں۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی اور بعض دوسرے عرب وزرائے خارجہ نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے سوموار کو واشنگٹں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بجائے زمین کے بدلے زمین کے فارمولے پر بھی غور کو تیار ہیں۔
شیخ حمد نے عرب لیگ کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کو یہ رعایتیں دینے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔اسرائیل کی وزیرانصاف زیپی لیفینی نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے عرب لیگ کے موقف میں تبدیلی کو ایک مثبت خبر قرار دیا ہے۔

مسٹر جان کیری نے عرب لیگ کے رکن ممالک بحرین ،سعودی عرب ،قطر ،اردن ،مصر اور فلسطینی علاقوں کے سنئیر وزراء سے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی جانب سے ایک عشرہ قبل پیش کیے گئے امن منصوبے کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔
بلئیر ہاؤس واشنگٹن میں ہونے والی اس ملاقات میں امریکا کے نائب صدر جو بائیڈن بھی موجود تھے۔جان کیری نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بہت مثب اور تعمیری انداز میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے صدر براک اوباما کے دوریاستی ویژن کا اعادہ کیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست بھی قائم کی جائے اور یہ دونوں ریاستیں ساتھ ساتھ امن اور سلامتی سے رہیں۔

یادرہے کہ بیروت میں سنہ 2002ء عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے پیش کردہ منصوبے میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل اپنے زیرقبضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کردے اور وہاں آزاد فلسطینی ریاستوں کے قیام کے لیے امن معاہدہ کرے توعرب ممالک اس کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کر لیں گے۔

تاہم اسرائیل نے اس منصوبے کو مسترد کردیا تھا اور وہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے عرب علاقوں کو چھوڑنے اور خاص طور پر مقبوضہ مشرقی القدس سے انخلاء کو تیار نہیں اور نہ وہ فلسطینی مہاجرین کی ان کے آبائی علاقوں کو واپسی کا حق دینے کو تیار ہے۔